Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 260

By Maulana Wahiduddin Khan

جہاز میں ہندی اخبار پنجاب کیسری (۷ ستمبر ۱۹۹۳) دیکھا۔ اس کے پہلے صفحہ پر ایک با تصویر خبر تھی جس کا عنوان تھا : جب ڈاکٹراہی روگی کو مارنے لگیں تو۔ خبر میں ایک ڈاکٹر کی داستان تھی جس کی غفلت اور خود غرضی کے نتیجہ میں ایک مریض موت کا شکار ہو گیا۔ میں نے سوچا کہ آج ڈاکٹر ہی نہیں بلکہ سب کا یہی حال ہو رہا ہے۔ خود غرضی اور استحصال نے پورے سماج کا یہ حال کر رکھا ہے کہ ہر ایک کسی نہ کسی ڈاکٹر کی زیادتی کا شکار ہو رہا ہے۔ ہر آدمی بیک وقت ظالم بھی ہے اور اسی کے ساتھ مظلوم بھی۔ ایک ہندو مسافر نے گفتگو کے دوران کہا کہ آٹھویں دہائی میں ٹی وی پر رامائن اور مہا بھارت کے سیریل دکھائے گئے۔ یہ کانگریس نے اپنے فائدہ کے لئے کیا تھا۔ مگر اس کے ذریعہ سے جو مذہبی احساس ابھرا اس کو بی جے پی نے استعمال کیا : The telecast of Ramayan and Mahabharat was a Congress play but the resulting brightening of religious feeling was exploited mainly by the BJP. میں نے کہا کہ جی ہاں ، اب کانگریس کی باری ہے۔ چنانچہ بابری مسجد ڈھائے جانے کے بعد کانگریس مندر اور مسجد دونوں کو دوبارہ بنانے کا کریڈٹ لینا چاہتی ہے۔ انھوں نے کہا: مگر کانگریس اپنے اس کھیل میں کامیاب ہونے والی نہیں۔ ۴ ستمبر ۱۹۹۳ کو فجر کی نماز نظام الدین (دہلی) کی کالی مسجد میں پڑھی۔ اور اسی دن ظہر کی نماز سے پہلے میں اورنگ آباد پہنچ چکا تھا۔ جب کہ دہلی اور اورنگ آباد میں تقریب ۲۰ سو کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ قدیم زمانہ میں یہ ناممکن تھا کہ کوئی شخص فجر کی نماز دہلی میں پڑھے اور ظہر کی نماز اورنگ آباد میں۔ یا وہ ناشتہ دہلی میں کرے اور دوپہر کا کھانا اورنگ آباد میں کھائے۔ مگر جدید مواصلات نے آج اس کو ممکن بنا دیا ہے۔ ان غیر معمولی سہولتوں کا تقاضا تھا کہ آج کا انسان ہمیشہ سے زیادہ خدا کا شکر گزار بنے، مگر معاملہ اس کا الٹا ہے۔ آج کا انسان ہمیشہ سے زیادہ خدا کی سرکشی کرنے والا بن گیا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page