Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 261

By Maulana Wahiduddin Khan

اورنگ آباد ایئر پورٹ سے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ روانہ ہو کر ہوٹل اشوک پہنچا۔ یہاں کمرہ نمبر ۲۳ میں میرا قیام رہا۔ اورنگ آباد میں قیام کے سلسلہ میں ایک قابلِ ذکر لطیفہ پیش آیا۔ جلسہ کے منتظمین نے ابتداً میرے قیام کا انتظام یہاں کے سرکاری گیٹ ہاؤس میں کیا تھا۔ اور اس کی رسید حاصل کر لی تھی۔ یہ رسید مور شو ر سانے ایم پی کے نام تھی جو شیو سینا کے ٹکٹ پر الیکشن جیتے تھے۔ یہ محض اتفاقاً تھا۔ اگر میں گیسٹ ہاؤس میں ٹھہرتا تو مخالفین شاید یہ کہتے کہ دیکھو۔ یہ تو شیو سینا کے آدمی ہیں۔ مگر بعض اسباب سے میں گیسٹ ہاؤس نہ جا سکا اور مذکورہ ہوٹل میں قیام کیا۔ سرکاری گیٹ ہاؤس میں ایسا ہوتا ہے کہ اگر کوئی منسٹر وغیرہ آ جائیں تو اس کے منتظمین رزرویشن کو کینسل کر کے اسے منسٹر صاحب کو دے دیتے ہیں لیکن اگر ریزرویشن کسی ایم پی کے نام ہو تو وہ کینسل نہیں کرتے۔ اس مصلحت کی بنا پر ایک صاحب نے اس کا ریزرویشن ایم پی کے نام کرایا تھا۔ اورنگ آباد کا ابتدائی نام کھڑکی تھا۔ ملک عنبر نے اس کو ۱۶۱۰ء میں آباد کیا تھا، بعد کو اورنگ زیب نے اس کا نام بدل کر اورنگ آباد رکھ دیا جو اس علاقہ کا مغل گورنر ہو کر یہاں آیا تھا۔ اس نے یہاں تاج محل کے نمونہ پر بی بی کا مقبرہ تعمیر کرایا۔ اورنگ زیب کی وفات کے بعد جب صوبائی حاکموں نے بغاوت کی تو اورنگ آباد نظام حیدر آباد کی ریاست کا جزء بن گیا ۔ ۱۸۷۲ء سے وہ انڈین یونین کا حصہ ہے۔ یہاں کی معروفارہ یونیورسٹی ۱۹۵۸ میں قائم ہوئی۔ اورنگ آباد میں سیاحوں کی دلچسپی کی کئی چیزیں ہیں۔ مثلاً ۔ اجنتا اور ایلورا کے غار ، خلد آباد میں اورنگ زیب کا مقبرہ ، دولت آباد کا قلعہ ، وغیرہ۔ اورنگ آباد میں بی بی کا مقبرہ“ دیکھا۔ یہ اورنگ زیب کی ملکہ رابعہ درانی (دل رس بانو) کا ہے جو اورنگ زیب کے بعد ان کے صاحبزادہ اعظم شاہ نے بنوایا تھا۔ اورنگ زیب کا مقبرہ، ان کی ہدایت کے مطابق ، خلد آباد میں بالکل سادہ اور چھوٹا سا ہے۔ مگر رابعہ درانی کا مقبرہ کافی بڑا ہے۔ وہ تاج محل کے انداز پر بنایا گیا ہے تاہم اس کے اندر وہ عمارتی حسن نہیں جو آگرہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page