Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 262

By Maulana Wahiduddin Khan

کے تاج محل میں ہے۔ یہ مقبرہ ۱۸۶۰ میں بنوایا گیا تھا۔ اس وقت چھ لاکھ ۴۵ ہزار ۲۸۳ روپیہ خرچ ہوا تھا۔ آج کے حساب سے اس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کا احاطہ بہت بڑا ہے اور نہایت عمدہ جائے وقوع ہے۔ بورڈ پر معمار کا نام عطا اللہ اور ہنس پت رائے لکھا ہوا تھا۔ خلد آباد میں اورنگ زیب کی قبر دیکھی۔ یہ قبر چھوٹی سی جگہ پر سادہ انداز میں بنی ہوئی ہے۔ اس کے اوپر چھت نہیں ہے۔ کنارہ پختہ ہے اور درمیان میں کچی مٹی کے اوپر ایک جھاڑ اگا ہوا ہے۔ قبر کے اوپر سفید چادر ہے۔ قبر کے کنارے سنگ مرمر کی تختی ہے۔ اس پر اورنگ زیب کے نام کے ساتھ "پادشاہ غازی خلد مکاں" لکھا ہوا ہے۔ یہ تختی اور پختہ فرش اور جالی نظام الملک آصف جاہ سابق نے ۱۴۳۱ ھ میں بنوایا تھا۔ اس کے نام کے ساتھ "دام ملکہ و جلالہ" لکھا ہوا ہے۔ آج سارا ماحول خاموش زبان میں اعلان کر رہا ہے کہ خلدیت اور دوامیت صرف ایک ہستی کے لئے ہے۔ اس کے سوا کسی اور کے لئے نہیں۔ خلد آباد کے علاقہ میں قبریں اور درگاہیں اتنی زیادہ ہیں کہ شاید ان کی گنتی نہیں کی جاسکتی۔ ہر طرف اسی کے مناظر ہیں۔ کہیں لوگ حاجتیں مانگ رہے ہیں۔ کہیں نذرانے طلب کرنے والے کھڑے ہوئے ہیں۔ کہیں کوئی پھول فروخت کر رہا ہے۔ کہیں عرس کا سامان ہے۔ اس طرح کے ماحول کے درمیان ہم لوگ دیر تک گھومتے رہے۔ یہاں کے مناظر کو دیکھ کر میں نے اپنے ساتھی سے کہا : یہ قبریں اور درگاہیں گویا تر بیت کاہلی کے مراکز ہیں۔ یہ قوم کو توہم پرست، اپاہج، حالات زمانہ سے بے شعور بنا رہے ہیں۔ سب سے بڑی درگاہ حضرت خواجہ منتخب الدین زر زر ی زر بخش کی سمجھی جاتی ہے۔ ان کی قبر کے باہر لکھا ہوا ہے : زر بخش ترے در پہ یہ عالم کی صدا ہے دے داد میرے دل کی تو مقبول خدا ہے اورنگ آباد میں حضرت بابا شاہ مسافر (م ۱۷۰۱ء) کی درگاہ ہے۔ وہ بخارا سے آئے تھے۔ یہاں ایک عجیب و غریب چیز وہ ہے جس کو "پن چکی" کہا جاتا ہے۔ ہر سول (Harsul) میں پانی کے ایک ذخیرہ کو چینلائز کر کے ایک زیر زمین نہر کے ذریعہ اس کو یہاں لایا گیا ہے۔ اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page