Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 263

By Maulana Wahiduddin Khan

پانی کو ایک پائپ کے ذریعہ ایک لوہے کے پنکھے پر گرایا جاتا ہے جس میں گیارہ پتیاں (blades) ہیں۔ پانی ایک کے بعد ایک پتی پر گرتا ہے۔ اس سے ایکسل گھومتا ہے جس کے اوپر پتھر کی بڑی چکی جڑی ہوئی ہے۔ چنانچہ وہ چکی گھومنے لگتی ہے۔ مذکورہ بزرگ کے زمانہ میں لوگ بکثرت زیارت کے لئے آتے تھے۔ ان سب کے لئے اسی چکی میں آٹا پیستا تھا جس کی مقدار روزانہ چار من تک ہوتی تھی۔ یہ پورا سسٹم اب بھی باقی ہے۔ البتہ اب اس میں آٹا نہیں پیسا جاتا۔ اب اس پن چکی کو لوگ محض عجوبہ کے طور پر دیکھنے آتے ہیں۔ ۵ ستمبر کی دوپہر کو میں نے اس پن چکی کو دیکھا۔ یہاں سیاح کافی آتے ہیں۔ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی اورنگ آباد میں ۲۵ ستمبر ۱۹۰۳ کو پیدا ہوئے۔ یہ میری پیدائش سے ٹھیک ۲۰ سال پہلے کا واقعہ ہے۔ یہ فرق بہت با معنی ہے۔ مولانا مودودی کی تفکیر کو میں رد عمل کی تفکیر سمجھتا ہوں۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ جس زمانہ میں ان کے ذہن کی تشکیل ہوئی وہ مکمل طور پر رد عمل کی آوازوں سے بھرا ہوا تھا۔ مجھ کو اللہ تعالیٰ نے اس آزمائش سے بچایا۔ میرے حالات نے مجھے یہ موقع دیا کہ میرے اندر مثبت طرز فکر پرورش پائے۔ مولانا مودودی کی اسی نفسیات کا نتیجہ تھا کہ انھوں نے اسلام کی سیاسی اصطلاحوں میں تبیین کو اسلام کی زمانی تشریح سمجھا۔ حالاں کہ اسلام کا زمانی اظہار یہ تھا کہ اس کو وقت کے سائنٹفک اسلوب میں بیان کیا جائے ۔ مولا مودودی سیاسی رد عمل میں مبتلا ہونے کی وجہ سے نہ سائنٹفک اسلوب کو سمجھ سکے اور نہ ان کے لئے یہی ممکن ہوا کہ وہ اس کو اپنی تحریروں میں اختیار کر سکیں۔ محمد سلیم صاحب نے بتایا کہ کامرس کی تعلیم کے زمانہ میں میں نے کورس کی ایک کتاب میں پڑھاتھا: بزنس اور جیب کو ایک دوسرے کا دشمن سمجھو۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک صاحب سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ کسی بھی موومنٹ کو اس کے رزلٹ سے جانچا جاتا ہے۔ رزلٹ اگر اچھا نہ نکلے تو بظاہر ایک صحیح موومنٹ بھی غلط ہو چلتی ہے۔ میں نے کہا کہ مہاتما گاندھی نے ۱۹۱۹ میں سول ڈس اوبیڈینیس کی تحریک چلائی۔ مگر کھیڑا میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page