بمبئی کا سفر
Urdu book, p. 264
By Maulana Wahiduddin Khan
ان کے آدمیوں نے قانون کو توڑ دیا۔ مہاتما گاندھی نے اس کو ہمالیائی قسم کا غلط اندازہ بتا کر تحریک روک دی۔ (صفحہ ۳۹۱)، اس کے برعکس (Himalayan miscalculation) آپ کے آدمیوں نے ۶ دسمبر کو سپریم کورٹ کے فیصلے کی کھلی خلاف ورزی کی۔ مگر آپ نے یہ کہا کہ ہم نے اپنے آدمیوں کے بارے میں بہت غلط اندازہ کیا تھا اور نہ تحریک کو روکنے کا اعلان کیا۔ میں نے کہا کہ آپ کے لوگوں نے ایک مسجد ڈھانچہ کو نہیں توڑا بلکہ ملک کی تمام اعلی روایات کو توڑ دیا۔ حتی کہ اب تمام سنجیدہ لوگ محسوس کر رہے ہیں کہ اب خود ہمارے دیس کا وجود ہی داؤ پر لگا ہوا ہے: The very survival of our nation is at stake. مذکورہ صاحب میری باتوں کا کوئی معقول جواب نہ دے سکے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایک اور صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے پرجوش گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ہمارا ہے۔ ہم جیسے چاہیں گے اس پر حکومت کریں گے۔ میں نے کہا کہ ہمارے ملک میں ڈیموکریسی ہے۔ ہر ہندوستانی کا یہ حق ہے کہ وہ جس ڈھنگ کی سرکار بنانا چاہے، اس کے لئے وہ کوشش کرے۔ اور اگر عوام اس کا ساتھ دیں تو سرکار بنائے۔ مگر آپ لوگ جو بولی بول رہے ہیں وہ گھنڈ کی بولی ہے، اور گھنڈ کی بولی اس دنیا میں نہیں چلتی۔ بھارت ہو یا کوئی دوسرا دیش ہو، وہ کسی بھی قوم یا پارٹی کا نہیں ہے۔ اس کا مالک خدا ہے۔ ہم اس کے امانت دار ہیں، ہم اس کے مالک نہیں۔ ہم کو وہی بولی بولنا چاہئے جو ہمارے لئے سزا وار ہو۔ سیکڑوں سال کا انسانی تجربہ اس ہندوستانی مثل میں بتایا گیا ہے کہ بڑے بول کا سر نیچا۔ ایک صاحب نے پاکستان کے بارے میں سوال کیا۔ میں نے کہا کہ پاکستان نام نہاد اسلام پسندوں کی وجہ سے تباہ ہورہا ہے جو ضروری حالات پیدا کئے بغیر زبردستی وہاں اسلامی نظام قائم کرنا چاہتے ہیں۔ اس غلطی کا آغاز اقبال سے ہوتا ہے جنھوں نے ۱۹۳۸ میں یہ سمجھا کہ ایک علیحدہ زمینی ٹکڑا حاصل کرنے سے اسلامی قانون کی حکومت قائم ہو جائے گی۔ ۱۹۴۷ میں پاکستان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader