Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 265

By Maulana Wahiduddin Khan

بننے کے بعد مولا نا شبیر احمد عثمانی نے یہ فرض کر لیا کہ اسمبلی میں قرارداد مقاصد پاس ہو جانے سے پاکستان اسلامی ملک بن جائے گا۔ انھوں نے یہ دھمکی دے کر اسلامی قرارداد مقاصد پاس کرائی کہ میں دستور ساز اسمبلی سے مستعفی ہو جاؤں گا اگر وہ پاس نہ کی گئی۔ اس کے بعد سید ابو الاعلیٰ مودودی اٹھے ۔ وہ اس غلط فہمی میں مبتلا رہے کہ حکمرانوں سے ٹکرا کر وہ پاکستان میں نظام مصطفے لا سکتے ہیں۔ اس کا آخری ڈراپ سین یہ ہے کہ جماعت اسلامی سمیت مختلف پارٹیوں کے اشتراک سے اسلامی جمہوری اتحاد‘ بنا۔ ۱۹۹۰ کے الیکشن میں اس کو مرکزی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل ہو گئی۔ نواز شریف اسلامی وزیر اعظم بن گئے ۔ مگر جلد ہی بعد ان میں اور صدر غلام اسحاق خاں میں ٹکراؤ شروع ہو گیا۔ صدر غلام اسحاق خاں کے الفاظ میں اس کی وجہ یہ تھی کہ نواز شریف عہدہ میں ان سے چھوٹے تھے ، مگر وہ چھوٹے بن کر رہنے پر راضی نہ تھے (نوائے وقت ۱۳ جولائی ۱۹۹۳) ۱۸ اپریل ۱۹۹۳ کو صدر اسحاق خاں نے بدعنوانی اور نااہلی کا الزام لگا کر نواز شریف کو برطرف کر دیا اور قومی اسمبلی کو تحلیل کر دیا۔ نواز شریف سپریم کورٹ میں گئے ۔ سپریم کورٹ نے ۲۶ مئی ۱۹۹۳ کے فیصلے میں صدر کے فرمان کو مسترد کرتے ہوئے نواز شریف کو دوبارہ وزیر اعظم بنا دیا اور قومی اسمبلی بحال کر دی ۔ مگر دونوں میں چپقلش جاری رہی۔ یہاں تک کہ ۱۸ جولائی کو فوجی چیف جنرل عبد الوحید نے مداخلت کر کے دونوں کو استعفا دینے پر مجبور کر دیا۔ میں نے کہا کہ نواز شریف نے مجبوری کے تحت چھوٹا بننا منظور کر لیا۔ مگر اسلامی حکومت وہ لوگ قائم کرتے ہیں جو آزادی کے تحت اپنے آپ کو چھوٹا بننے پر راضی کر لیں۔ جب تک ایسے کیریکٹر کے افراد نہ پیدا ہوں ، اسلامی نظام کی بات کرنا ایک قسم کا مسخرہ پن ہے نہ کہ کوئی اسلامی کام۔ ایک صاحب سے گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ پاکستان جب سے بنا اسی وقت سے اس کی سیاست اینٹی انڈیا سیاست ہے۔ ۱۹۶۲ء میں انڈین نیوی کے کچھ جہاز بمبئی میں کھڑے تھے۔ اس پر اس وقت کے صدر پاکستان جنرل ایوب خاں نے امریکی صدر جان کینیڈی کو نومبر ۱۹۶۲ کو ایک لمبا خط روانہ کیا۔ اس کا ایک جز یہ تھا : انڈیا کے بحریہ کے جہاز ، دو چھوٹے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page