Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 266

By Maulana Wahiduddin Khan

جہازوں کو چھوڑ کر، سب کے سب بمبئی کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہیں۔ بظاہر اس کی وجہ مرمت بتائی جاتی ہے لیکن دراصل انھیں ہمارے لیے خطرہ پیدا کرنے کے واسطے وہاں اکٹھا کیا گیا ہے (سوانح حیات محمد ایوب خاں، ۳۸۰-۲۳۷) صدر محمد ایوب خاں نے اس خط میں امریکہ سے اپیل کی تھی کہ وہ انڈیا کو ہتھیار نہ دے، کیوں کہ وہ ان ہتھیاروں کو ہمارے خلاف کشمیر میں استعمال کرے گا۔ جیسا کہ وہ اس سے پہلے جونا گڑھ اور حیدر آباد میں ان کو ہمارے خلاف استعمال کر چکا ہے (۲۳۸) بمبئی میں اگر جہاز کھڑے ہوں تو ان کو کراچی کے لئے خطرہ بتانا، یا جونا گڑھ اور حیدر آباد کو بھی پاکستان کا مسئلہ سمجھنا اور کشمیر کو بھی پاکستان کا مسئلہ سمجھنا، اس قسم کی باتوں کو جو لوگ خارجہ سیاست سمجھتے ہیں، وہ خارجہ سیاست کی الف ب بھی نہیں جانتے۔ پاکستان نے روز اول سے امریکہ کو اپنا دوست اور انڈیا کو اپنا دشمن سمجھا۔ مگر یہ وہی خارجہ سیاست تھی۔ سچی خارجہ سیاست یہ تھی کہ پاکستان دل سے انڈیا کو اپنا دوست بناتا۔ اگر ایسا ہوتا تو آج برصغیر ہند کا نقشہ بالکل مختلف ہوتا۔ ایک صاحب نے کہا کہ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ آپ مسلمانوں سے دور ہو گئے ہیں۔ مسلمانوں کے اجتماع میں آپ بہت کم نظر آتے ہیں۔ البتہ ہندوؤں سے آپ کا تعلق بہت بڑھ گیا ہے۔ ان کی میٹنگوں میں آپ کو بہت زیادہ بلایا جاتا ہے۔ ہندو پریس میں آپ بہت زیادہ چھپ رہے ہیں۔ ہندوؤں سے آپ کا بہت زیادہ ملنا جلنا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ ایک لغو الزام ہے۔ آپ اور نگ آباد میں یا کسی بھی مقام کا سروے کر کے دیکھ لیں۔ آج مسلمانوں میں سب سے زیادہ الرسالہ اور اس کی مطبوعات پڑھی جاتی ہیں۔ میں بار بار مسلمانوں کے اجتماعات میں جاتا ہوں، جن میں سے ایک موجودہ اور نگ آباد کا سفر بھی ہے۔ باقی جہاں تک ہندوؤں میں نفوذ کا تعلق ہے، تو وہ عین ہمارا مقصود ہے۔ ۱۹۶۰ میں جب الرسالہ جاری ہوا، اس وقت سے ہم یہ کہتے رہے ہیں کہ غیر مسلموں میں تعلقات بڑھائے جائیں۔ ان کے درمیان اسلام کا پیغام رسانی کا کام کیا جائے۔ اللہ کے فضل سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page