بمبئی کا سفر
Urdu book, p. 267
By Maulana Wahiduddin Khan
غیر مسلموں میں ہمارے مشن کا جو نفوذ ہوا ہے، وہ لمبی جدوجہد کے نتیجہ میں ہوا ہے۔ اور عین ہمارے نشانے کے مطابق ہوا ہے۔ جو لوگ اس پر اعتراض کر رہے ہیں انھیں خوش ہونا چاہئے کہ ہندوستانی مسلمان اب اس قابل ہو رہے ہیں کہ وہ اسلام کی ایک اہم ذمہ داری کو پورا کر سکیں۔ اورنگ آباد میں ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ عرب میں ایک بینک میں کیشئیر تھے۔ انھوں نے بتایا کہ عرب لوگ امریکیوں سے بہت زیادہ مرعوب ہیں۔ ان کے بارہ میں کہتے ہیں کہ : مخ کثیر۔ یعنی ان کا دماغ بہت زیادہ ہے۔ لیکن انڈیا اور پاکستان جیسے ملکوں کے مسلمانوں کو حقیر سمجھتے ہیں۔ انھوں نے مثال کے طور پر بتایا کہ وہ بینک میں اپنی ڈیسک پر تھے۔ عرب فوجی تنخواہ کے لئے آتے تھے۔ ان کے پاس چیک ہوتا تھا جس کو لے کر انھیں رقم دینا ہوتا تھا۔ مذکورہ صاحب کاؤنٹر کے پیچھے ایک ایک چیک لیکر اس کی رقم گن کر دے رہے تھے ، اتنے میں لائن میں کھڑے ہوئے ایک عرب فوجی کی آواز آئی : یا اللہ سرعة (یعنی جلدی کرو)۔ انھوں نے کہا : انامش ماکینة (میں مشین نہیں ہوں)۔ اس جواب کو سن کر فوراً مذکورہ عرب فوجی نے ڈانٹ کر کہا : اسکت یا هندی (اے انڈین چپ رہو) میں نے اس قصہ کو سن کر کہا کہ ہندوستان کے مسلمان عرب میں جاکر وہاں جس طرح موافقت کرکے رہتے ہیں، اس کا ۲ فیصد بھی اگر وہ انڈیا میں موافقت کرکے رہیں تو یہاں ہر طرف امن ہی امن ہو جائے۔ شیخ سلیم صاحب (۳۶ سال ، ایم کام ، ایل ایل بی نے بتایا کہ انڈیا ٹوڈے کے ایک سروے میں انھوں نے پڑھا کہ انڈیا میں ۸۵ حلقۂ انتخاب ایسے ہیں جہاں ایم پی کے الیکشن میں مسلمان فیصلہ کن بن سکتے ہیں۔ مگر مسلمانوں کی نادانی سے ان کے ووٹ بٹ جاتے ہیں۔ وہ اپنے موافق پچاس ممبر لوک سبھا میں پہنچا سکتے ہیں۔ مگر اپنی بے شعوری کی بنا پر وہ اس امکان کو کھو رہے ہیں۔ شیخ سلیم صاحب نے دس سال پہلے اپنے کسی دوست سے پانچ سو روپیئے لے کر بینک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader