بمبئی کا سفر
Urdu book, p. 268
By Maulana Wahiduddin Khan
میں کھاتہ کھولا اور پھر بینک سے قرض لے کر ایک انڈسٹری شروع کی۔ مگر پہلے ہی سال ان کو 4 ہزار روپیہ کا گھاٹا ہو گیا۔ لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری۔ انھوں نے بینک سے مزید قرض حاصل کرکے اپنا کارو بار جاری رکھا۔ چنانچہ اگلے سال انہیں ایک لاکھ ۳۰ ہزار روپیہ کا فائدہ ہو گیا۔ اب اورنگ آباد میں ان کی پانچ انڈسٹری چل رہی ہے _______ زندگی نام ہے رسک لینے کا۔ اس دنیا میں رسک لینے والا ہی کامیاب ہوتا ہے اور نقصان کو برداشت کرنے والا ہی آخر کار فائدہ حاصل کرتا ہے۔ ڈاکٹر محمد عمر (۴۰ سال) نے ایک انگریزی مثل بتائی جو مجھے پسند آئی۔ وہ یہ کہ اچھے آغاز کا مطلب یہ ہے کہ آدھا کام ہو گیا : Well begun is half done. اورنگ آباد میں مسٹر وگھن را جیند ر پر بھا کر سانے سے ملاقات ہوئی ۔ وہ مراٹھی کے ادیب ہیں۔ انہوں نے سیرت رسول پر کئی کتابیں پڑھیں۔ پھر انھوں نے پیغمبر انقلاب کا انگریزی ترجمہ پڑھا۔ یہ کتاب ان کو بہت پسند آئی۔ یہاں تک کہ انہوں نے خود اپنے شوق کے تحت پوری کتاب کا ترجمہ مراٹھی زبان میں کر ڈالا۔ ان کا پتہ یہ ہے : Mr. Vighnarajendra Prabhakar Sane Vice Principal K.N. Polytechnic (Pharmacy) P.O. Box 65, Rauzabagh Aurangabad. وہ اس کتاب کو اہتمام کے ساتھ کسی بڑے پبلشر کے ذریعہ چھپوانا چاہتے ہیں۔ 4 ستمبر کی شام کو رمیشوارہ سان ٹیک منڈل میں ایک میٹنگ ہوئی۔ اس میں شہر کے تعلیم یافتہ اور مسلمان جمع ہوئے ۔ سوال و جواب کے انداز میں گفت گو ہوئی۔ ایک ہندو بھائی نے سوال کیا کہ آپ کہتے ہیں کہ آج کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ لوگوں کو ایجوکیٹ کیا جائے، توایجوکیشن کے لئے آپ کے سامنے ماڈل کیا ہے۔ میں نے کہا کہ میرے سامنے نیچر کا ماڈل ہے۔ لوگوں کی سوچ کو فطری سوچ بنانا۔ ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے کہا کہ اس وقت ہمار سب سے بڑا مسئلہ ہماری ملی آئیڈنٹٹی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader