Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 269

By Maulana Wahiduddin Khan

کا تحفظ ہے جو خطرہ میں پڑی ہوئی ہے، اس کا آپ کے پاس کیا حل ہے۔ میں نے کہا کہ یہ سوچ بجائے خود درست نہیں۔ آپ اسلام کو اس کے فارم سے آئیڈنٹیفائی کرنا چاہتے ہیں۔ اس لئے ایسا کہہ رہے ہیں۔ جب کہ صحیح یہ ہے کہ اسلام کو اس کی اسپرت سے آئیڈنٹیفائی کیا جائے۔ میں اسپرت کو اس معاملہ میں اصل سمجھتا ہوں ۔ اور اپنی ساری طاقت میں نے روح اسلام کو زندہ کرنے میں لگا رکھی ہے۔ انھوں نے کہا کہ فارم تو ضروری ہے۔ میں نے کہا کہ میں فارم کا انکار نہیں کرتا۔ مگر آپ لوگ اس معاملہ میں جو باتیں کر رہے ہیں وہ (shift in emphasis) کے ہم معنی ہے۔ آپ حضرات فارم کو اہمیت دے رہے ہیں۔ حالاں کہ اصل اہمیت کی چیز اسپرت ہے۔ ہم کو سب سے زیادہ اسی پر زور دینا چاہئے کیوں کہ جب اسپرت آتی ہے تو اس کے بعد فارم اپنے آپ آ جاتا ہے۔ ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے کہا کہ اس وقت مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کا کوئی قائد نہیں۔ قیادت کے موجود نہ ہونے کی وجہ سے ہی ان کے سارے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ بات اکثر کہی جاتی ہے۔ مگر یہ محض بے شعوری کی بات ہے۔ میں نے کہا کہ ۱۹۴۷ء سے پہلے اس ملک میں کئی بڑے بڑے افراد موجود تھے جو قیادت کی بہترین صلاحیت رکھتے تھے۔ مثلاً مولانا حسین احمد مدنی ، مولانا ابو الکلام آزاد۔ مگر قوم ان کو چھوڑ کر مسٹر جناح کی طرف دوڑ پڑی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اصل مسئلہ قیادت کی غیر موجودگی نہیں ہے بلکہ قبولیت قیادت کی غیر موجودگی ہے۔ قوم جب قائد کو قبول ہی نہ کرے تو اچھے سے اچھا قائد بھی بے فائد ہو کر جائے گا۔ میں نے کہا کہ مسلمانوں کا اصل مسئلہ ان کی سوچ کا بگڑا ہے۔ جب تک لوگوں کی سوچ درست نہ ہو اس وقت تک ملی ترقی کا کوئی بڑا کام نہیں کیا جا سکتا۔ اور نہ کوئی صالح قیادت ان کے درمیان ابھر سکتی ہے۔ ایک مجلس میں ذاتی سوالات کے جواب میں میں نے بتایا کہ میری باقاعدہ تعلیم عربی مدرسہ میں ہوئی۔ انگریزی میں نے پرائیویٹ طور پر پڑھی۔ یہ سن کر ایک صاحب نے کہا کہ ہم نے تو سنا تھا کہ آپ ایم ایس سی ہیں۔ میں نے کہا کہ میری رسمی تعلیم ساری کی ساری مدرسہ میں ہوئی ہے۔ البتہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page