بمبئی کا سفر
Urdu book, p. 270
By Maulana Wahiduddin Khan
انگریزی سیکھنے کے بعد میں نے ذاتی مطالعہ کے تحت سائنس اور دوسرے جدید علوم کا مطالعہ کیا ہے۔ ایک مجلس میں ہندو اور مسلمان دونوں موجود تھے۔ ایک کانگریسی ہندو بھی اس میں شریک تھے۔ انھوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کا ذکر چھیڑا۔ میں نے کہا کہ میں کسی پارٹی کا نہ مخالف ہوں اور نہ موافق۔ البتہ میں کہتا ہوں کہ یہ سورج غلط ہے کہ فلاں سیاسی پارٹی کو اقتدار میں نہ آنے دو ورنہ ملک تباہ ہو جائے گا۔ میں نے کہا کہ ملک کو جو چیز تباہ کرنے والی ہے وہ ڈیو کریٹک پر اس کو روکا نہ ہے۔ یہ ڈیموکریسی کا زمانہ ہے۔ آپ زمانہ کے خلاف چلیں توز مانہ نہیں بدلتا البتہ آپ تباہ ہو کر رہ جاتے ہیں۔ میں نے کہا کہ آزادی کے بعد ہمیں یہ کرنا تھا کہ مقرر مدت میں فیرا و ر فری الیکشن ہو ۔ جو پارٹی جیتے اس کو چار سال تک حکومت کرنے کا موقع دیا جائے۔ ہارنے والا اپنی ہار کو مان لے جیسے مغربی ملکوں میں ہوتا ہے۔ ۱۹۹۲ کے صدارتی الیکشن میں کلنٹن جیت گیا۔ بش ہار گیا۔ مگر اس کے بعد کلنٹن کو سب سے پہلا مبارک باد کا جو تار ملا وہ جارج بش نے بھیجا تھا۔ اسی طرح یہاں ہونا چاہئے کہ جو ہارے وہ اپنی ہار کو مان لے اور اگلے الیکشن تک اپنی باری کا انتظار کرے۔ مگر یہاں یہ ہوتا ہے کہ اولاً تو فیرا الیکشن نہیں ہوتا اور دوسرے یہ کہ الیکشن کے بعد جو ہارتا ہے وہ چاہتا ہے کہ جیتنے والی پارٹی کو چلنے نہ دے۔ درمیان میں ہی اس کو حکومت سے نکال باہر کرے۔ ایک مجلس میں حالیہ مذہب بل کا تذکرہ ہوا۔ میں نے کہا کہ اصولاً میں اس کے خلاف ہوں کہ سیاسی مفاد کے لئے مذہبی نعرہ کو استعمال کیا جائے۔ مگر اس طرح کی کسی برائی کو قانون کے ذریعہ ختم نہیں کیا جا سکتا۔ آپ دیکھئے آج بھی بہت سی سماجی اور سیاسی برائی کے خلاف قانون بنے ہوئے ہیں۔ مگر ان قوانین نے ایک فیصد بھی اس برائی کو ختم نہیں کیا۔ آپ کو سب سے پہلے لوگوں کی سورج کو بدلنا ہوگا۔ لوگوں کو ایجوکیٹ کرنا پڑے گا۔ اس کے بعد ہی یہ برائیاں ختم ہو سکتی ہیں۔ اورنگ آباد کے کچھ لوگوں نے "علماء اورنگ آباد" کے نام سے مقامی اخبارات میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader