Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 271

By Maulana Wahiduddin Khan

میرے خلاف بیانات چھپوائے تھے۔ ان بیانات میں میری مذمت کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اورنگ آباد میں میری تقریر نہیں ہونا چاہئے ۔ وغیرہ ۔ مگر اورنگ آباد کا جلسہ خدا کے فضل سے بہت کامیاب ہوا۔ ہندو اور مسلمان دونوں بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ حتیٰ کہ ہال لوگوں کی کثرت کی وجہ سے ناکافی ہو گیا۔ ان بے معنی بیانات کو دیکھ کر سخت افسوس ہوا۔ میں نے سوچا کہ لوگوں کے پاس کوئی مثبت کام نہیں اس لئے وہ اس قسم کے منفی کاموں میں لگے ہوئے ہیں۔ اس کا حل جوابی مذمت نہیں ہے۔ اس کا حل یہ ہے کہ لوگوں کے اندر مثبت سوچ پیدا کر دی جائے۔ مخالفانہ پروپیگنڈے کی وجہ سے پولیس چوکنّی ہو گئی۔ اس نے جلسہ گاہ میں حفاظت کا خصوصی انتظام کیا۔ اس سلسلہ میں ایک عجیب لطیفہ پیش آیا۔ اجتماع کے دوران دمیر ہاشم ایم اے ایل ایل بی کے صاحبزادے) میرے ساتھ تھے۔ وہ اچھے جسم کے تندرست نوجوان ہیں۔ وہ اتفاق سے سیاہی مائل پتلون اور بش شرٹ پہنے ہوئے تھے۔ تقریر سے فارغ ہو کر میں مغرب کی نماز کے لئے اٹھا۔ تو وہ میرے ساتھ ہو گئے اور جب میں نے وضو کیا تو پانی لے کر مجھ کو وضو کرانے لگے۔ وغیرہ۔ ایک صاحب نے بتایا کہ پولیس والے اس نوجوان کو زبردست سلیوٹ دے رہے تھے ۔ وہ جدھر جاتے پولیس والے ان کو سلیوٹ دیتے۔ قصہ یہ تھا کہ انھوں نے سمجھ لیا کہ یہ کوئی "بلیک کیٹ" ہے جو دہلی سے میری سیکیورٹی کے لئے ساتھ ہاتھ آیا ہے۔ حالاں کہ اصل حقیقت یہ تھی کہ وہ میر ہاشم صاحب کے صاحبزادے تھے جو الکٹرانکس کے طالب علم ہیں۔ ان کا پور اگر گھر الرسالہ پڑھتا ہے۔ چنانچہ ان کے گھر کے سبھی لوگ جلسہ میں شریک تھے۔ از راہ خلوص وہ میرے ساتھ ہو گئے تھے۔ نہ کہ برائے حفاظت۔ ۴ ستمبر کی دوپہر کو ہم لوگ اور نگ آباد سے خلد آباد کے لئے روانہ ہوئے۔ راستہ میں دولت آباد دیکھا۔ اس کے بعد کاغذی پورہ میں درگاہ والی مسجد میں ظہر کی نماز ادا کی۔ یہ ایک قدیم مسجد ہے۔ اس کے طاق پر ایک چھوٹا سا لکڑی کا صندوق رکھا ہوا تھا۔ اس کے اندر قرآن کے سپارے رکھے ہوئے تھے۔ صندوق کے اوپر یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے :

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page