Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 272

By Maulana Wahiduddin Khan

برائے ایصال ثواب مرحومہ قمر النسا دودھ والی، طاہر منزل، بمبئی ۸۔ اس مسجد کے وسیع صحن میں ایک قبر ہے۔ کئی عورتیں یہاں اس کی زیارت کرتی ہوئی نظر آئیں۔ قبر کے دروازہ کے بیرونی سمت میں ایک بورڈ اس مضمون کا لگا ہوا تھا : شہنشاہ روم و شام حضرت مولانا مخدوم حاجی نظام الدین صاحب چہار ده صد ( ۱۴۰۰) اولیاء کامل پیش امام قدس سرہ العزیز کاغذی پورہ تعلقہ خلد آباد ضلع اورنگ آباد۔ مسجد کے بیرونی دروازے پر ایک پتھر دکھائی دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ مسجد محمد بن تغلق کے عہد میں بنائی گئی۔ آگے بڑھے تو ایک اور درگاہ کا بورڈ لگا ہوا تھا۔ اس پر لکھا ہوا تھا : درگاه پیر مست زنده ولی ، درگاه حضرت حافظ یحییٰ میاں قادری کالی قدس سرہ العزیز، درگاه حضرت حافظ شاه غلام ربانی قادری کالی قدس سرہ العزیز ، خلد آباد شریف۔ ان چیزوں کو دیکھ کر امت کی موجودہ تصویر آنکھوں کے سامنے آگئی۔ میں نے سوچا کہ آج امت کا یہ حال ہے کہ اس کے خواص نزاعات میں الجھے ہوئے ہیں اور اس کے عوام تو بہت ہیں ۔ ۵ ستمبر کی شام کو مہٹہ سنسکرت کے ہال میں پبلک میٹنگ ہوئی۔ اس میں تقریر کا موضوع تھا ـــــــــ اسلام دین رحمت۔ ہال مکمل طور پر بھرا ہوا تھا۔ بہت سے لوگ اندر جگہ نہ ہونے کی وجہ سے باہر کھڑے ہوئے تھے ۔ جسٹس وتیش مکنے نے صدارت کی ۔ انھوں نے اپنی آخری صدارتی تقریر میں کہا کہ محمد صاحب کے بارہ میں اس وقت جو باتیں میں نے سنی ہیں اس کے بعد میری یہ تجویز ہے کہ اس طرح کی تقریریں مراٹھی میڈیم اسکولوں میں اور رہند و نوجوانوں میں کرائی جائیں تاکہ لوگوں کو اسلام کے بارہ میں صحیح جانکاری ہو۔ اس اجتماع کی خصوصیت یہ تھی کہ اس میں مسلمان ، ہندو ، سکھ ، عیسائی ، ہر مذہب کے لوگ بڑی تعداد میں جمع ہوئے ۔ اگرچہ لاؤڈ اسپیکر زیادہ اچھا نہ تھا۔ مگر بعد کو ایک صاحب نے ہتا یا کہ لوگ آپ کی لمبی تقریر کو اس طرح محو ہو کر سن رہے تھے جیسے اس میں گم ہو گئے ہیں۔ تقریر میں میں نے کہا کہ اسلام کا دین رحمت ہونا قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔ اس سلسلہ میں مختلف آیتیں اور حدیثیں پڑھ کر سنائیں۔ دور اول میں دعوت کا کلمہ یہ ہوتا تھا :

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page