بمبئی کا سفر
Urdu book, p. 273
By Maulana Wahiduddin Khan
ایھا الناس قولوا لا اله تفلحوا ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام صرف کچھ اسرار عقائد یا غیر متعلق رسوم کا مجموعہ نہیں، بلکہ اس کا تعلق فلاح انسانی سے ہے۔ یہ فلاح دنیا سے آخرت تک چلی جاتی ہے۔ تقریر کے آخر میں میں نے کہا کہ ساری بات کا خلاصہ یہ ہے کہ اسلام آدمی کے اندر پازیٹو تھنکنگ پیدا کرنا چاہتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ کی پوری زندگی اسی کا ایک اعلیٰ نمونہ ہے۔ پروگرام کے خاتمہ کے بعد بہت سے لوگ ملے اور اپنے اتفاق کا اظہار کیا۔ ایک صاحب نے ایک چھوٹا سا کاغذ دیا اور کہا کہ اس کا جواب الرسالہ میں دیجیے گا۔ یہ کہہ کر وہ چلے گئے۔ میں نے کاغذ دیکھا تو اس میں ان کا نام یا پتہ کچھ بھی لکھا ہوا نہ تھا ۔ اس چھوٹے سے کاغذ پر انگریزی میں حسب ذیل الفاظ درج تھے : Positive thinking to what extent? And what about positive acting and to what extent? Will you please explain it in your next edition of Al-Risala or any famous Urdu newspaper? اگر وہ صاحب ملتے تو میں ان سے کہتا کہ پازیٹو تھنکنگ (مثبت طرزِ فکر) آخر وقت تک مثبت طرزِ فکر کی ضرورت کسی دوسرے کے لئے نہیں ہے بلکہ خود ہمارے اپنے لئے ہے۔ مثبت طرزِ فکر کا تعلق خود اپنی شخصیت کی تعمیر سے ہوتا ہے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں وہ افراد جائیں گے جو قلب سلیم (الشعراء (۸۹) لے کر اللہ کے یہاں پہنچیں۔ قلب سلیم سے مراد ربانی شخصیت ہے۔ منفی نفسیات میں جینے سے غیر ربانی شخصیت بنتی ہے اور مثبت نفسیات میں جینے سے ربانی شخصیت۔ ایسی حالت میں یہ مومن کی اپنی ضرورت ہے کہ وہ ناموافق باتوں پر منفی ردِ عمل کا شکار نہ ہو۔ وہ صبر و اعراض کے اصول کو اختیار کر کے مثبت فکر پر قائم رہے، اگر اس نے ایسا نہیں کیا تو اس کے اندر ربانی شخصیت کی تعمیر نہ ہو سکے گی۔ اور جس آدمی کے اندر ربانی شخصیت نہ بنے، اس کا جنت میں داخلہ ہی مشتبہ ہو جائے گا۔ اگلے صفحہ پر وہ اشارات درج ہیں جو حسب معمول میں نے ایک کاغذ پر نوٹ کئے تھے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader