بمبئی کا سفر
Urdu book, p. 275
By Maulana Wahiduddin Khan
رات کو جب تمام لوگوں سے رخصت ہو کر میں اپنے کمرہ میں آیا تو کمرہ کے ٹیلیفون کی گھنٹی بجی۔ رسیور اٹھایا تو اورنگ آباد کے مشہور فریڈم فائٹر اور پدم بھوشن گووند بھائی شراف ایم ایل سی بول رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا کیا اس وقت۔ انھوں نے کہا کہ ہاں ابھی۔ میں نے کہا کہ اب تو رات ہو چکی ہے۔ اس وقت آپ کو تکلیف ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ میرے گھر سے ہوٹل کا راستہ کار کے ذریعہ ، منٹ کار راستہ ہے۔ میں دس منٹ میں پہنچ جاتا ہوں۔ میں نے کہا کہ پھر ٹھیک ہے آجائیے۔ دس منٹ میں وہ آگئے۔ ان کی عمر ۸۳ سال ہے۔ مگر ابھی تک وہ ایکٹو لائف گزار رہے ہیں۔ انھوں نے بڑی درد مندی کے ساتھ کہا کہ اس ملک میں ہند و مسلم ایکتا بہت ضروری ہے۔ ۶ دسمبر کو ایودھیا میں جو ہوا وہ بہت برا تھا۔ مگر اب ہم سب کو ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر بھائی بھائی کی طرح رہنا چاہئے۔ ورنہ ملک تباہ ہو جائے گا۔ ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ ان کا تعارف اس حیثیت سے کرایا گیا تھا کہ وہ رسالہ کے مخالف ہیں۔ میں نے ان کا تاثر پوچھا تو انھوں نے کہا کہ آپ علما کی مجاہدانہ تحریک کو ناکام بناتے ہیں۔ حالاں کہ وہ تو اپنے مقصد میں مکمل طور پر کامیاب ہوئے۔ میں نے پوچھا کہ ان کا مقصد کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ان کا مقصد عالم اسلام سے انگریزوں کا اخراج تھا۔ اور ان کی قربانیوں سے الحمد للہ یہ مقصد پوری طرح حاصل ہو گیا۔ میں نے کہا کہ آپ نے ادھوری بات کہی۔ پوری بات یہ ہے کہ انگریز گیا اور امریکہ آگیا۔ گویا کہ یہ دشمن کا بدلنا (replacement) تھا نہ کہ دشمن کا اخراج۔ انگریز کا جسمانی اخراج بذات خود کوئی مقصد نہیں ہو سکتا۔ جہاد کا اصل مقصد مغلوبیت مسلم کو ختم کرنا تھا، اور وہ ایک فیصد بھی ختم نہیں ہوئی۔ پھر میں نے کہا کہ مزید یہ کہ اب جسمانی موجودگی ایک اضافی چیز بن چکی ہے۔ جدید مواصلاتی ذرائع نے اس کو ممکن بنا دیا ہے کہ جسمانی موجودگی کے بغیر ایک قوم دوسری قوم کے درمیان نفوذ حاصل کر لے۔ چنانچہ انگریزوں نے جو تدخل جسمانی موجودگی کے ذریعہ حاصل کیا تھا وہ تدخل مزید اضافہ کے ساتھ امریکہ اپنی جسمانی موجودگی کے بغیر مسلم ملک میں حاصل کئے ہوئے ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader