Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 276

By Maulana Wahiduddin Khan

۵ ستمبر کی شام کو عشا کے وقت اجتماع گاہ سے ہوٹل واپس آیا۔ یہاں تقریباً دو درجن افراد جمع ہوں گے۔ یہ سب اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ تھے اور ان میں ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی سبھی مذہب کے لوگ شامل تھے۔ ہوٹل میں دیر تک ان لوگوں سے باتیں ہوتی رہیں۔ رات کو گیارہ بجے اپنے کمرہ میں پہنچا۔ رات کو جلد ہی نیند آگئی۔ سوتے ہوئے ایک عجیب خواب دیکھا: یہ اورنگ آباد کے ہوٹل اشوک کا کمرہ نمبر ۲۳ ہے۔ میں رات کو تنہا اس میں سورہا ہوں۔ رات کو میں نے وہاں ایک خواب دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ میں ایک پاکستانی مسلمان کے ساتھ سفر کر رہا ہوں۔ وہ انڈیا آئے تھے اور اب وہ پاکستان واپس جارہے ہیں۔ راستہ میں انھوں نے چاہا کہ انڈیا کا امرود خرید کر اپنے ساتھ لے جائیں۔ ہم دونوں بازار میں گئے۔ مگر اتفاق سے امرود نہ مل سکا۔ ہم لوگ ایک جگہ بیٹھے تھے۔ اتنے میں ایک ہندو خاتون وہاں آگئیں۔ کسی طرح انھیں معلوم ہوا کہ ہم امرود کی تلاش میں ہیں مگر بازار میں امرود نہیں مل رہا ہے۔ وہ ہندو خاتون تیزی سے اپنے گھر گئیں اور ایک تازہ امرود جو غیر معمولی طور پر بڑا تھا۔ یعنی چھوٹے بیل کی مانند تھا۔ انھوں نے لا کر ہمیں بطور تحفہ پیش کیا۔ یہ دیکھ کر پاکستانی مسلمان نے انگریزی میں کہا کہ آج میں نے ایک نیا ہندو دریافت کیا : Today I discovered a new Hindu. میں نے پاکستانی مسلمان کی زبان سے یہ جملہ سنا تو میں نے انگریزی میں اس کا جواب دیا۔ وہ جواب اس طرح تھا : Don't say new Hindu, but say real Hindu because all Hindus are like this. (یہ نہ کہئے کہ نیا ہندو، بلکہ یہ کہئے کہ حقیقی ہندو۔ کیوں کہ تمام ہندو ایسے ہی ہیں) یہ خواب میں نے اٹھ کر رات کو چار بجے ہوٹل کے کمرہ میں لکھا۔ کمرہ میں بڑے سائز کا ٹی وی سیٹ رکھا ہوا تھا۔ مگر میں نے اس کو کبھی نہیں کھولا۔ ہوٹل کے ایک ملازم نے کہا کہ آپ ٹی وی نہیں چلاتے ۔ میں نے کہا کہ میرا ذہن کچھ ایسا ہے کہ میں اس قسم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page