بمبئی کا سفر
Urdu book, p. 277
By Maulana Wahiduddin Khan
کی چیزوں سے انجوائے نہیں کر سکتا۔ ۵ ستمبر کو لائٹ جلانے کے لئے میں میز پر لگے ہوئے بٹن دبا رہا تھا کہ ایک بٹن دباتے ہی ٹی وی چل گیا۔ اس وقت بی بی سی سے " ایشیا ٹوڈے" کے تحت پروگرام آ رہا ہے۔ اس میں کوریا کی ترقی دکھائی جارہی تھی۔ ایک منظر میں میں نے دیکھا ایک انٹرویو ر کسی ذمہ دار کورین سے سوالات پوچھ رہا ہے۔ گفتگو کے پس منظر میں کوریا کی صنعتی ترقیاں دکھائی دے رہی ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں مذکورہ کورین نے کہا: The most important thing is the mindset of Korean people. We are a small nation so we want to make everything big. ذہنی ساخت (mindset) کی بات مجھے بہت پسند آئی۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں سب کچھ اسی ذہنی ساخت پر منحصر ہے۔ منفی ذہنی ساخت سے منفی تاریخ بنتی ہے اور مثبت ذہنی ساخت سے مثبت تاریخ۔ ۵ ستمبر کو واپسی کا دن تھا۔ ساتھیوں کے ہمراہ ایئر پورٹ پہنچا۔ ذوالفقار صاحب کے تعلقات بہت وسیع ہیں اور عام طور پر لوگ ان کا احترام کرتے ہیں۔ پہنچانے والوں کے لئے ایئر پورٹ پر اندر جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ مگر ذوالفقار صاحب نے ایئر پورٹ کی خاتون ذمہ دار سے کہا تو اس نے ہمارے سب ساتھیوں کو اندر جانے کی اجازت دے دی۔ یہاں جہاز کی روانگی کے آخر وقت تک ہم لوگ باتیں کرتے رہے۔ ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ لوگ ۶ دسمبر کو صرف المیہ کے روپ میں دیکھتے ہیں۔ مگر اس دنیا کا قانون ہے کہ یہاں ہر المیہ کے اندر سے ایک نیا وسیع تر امکان برآمد ہوتا ہے ۱۹۹۳ کے واقعات اشارہ کر رہے ہیں کہ یہ نیا امکان ملت مسلمہ کے لئے پوری طرح برآمد ہو چکا ہے۔ آخر وقت میں ساتھیوں سے رخصت ہو کر اندر داخل ہوا تو چیک ان کے اسٹاف میں مسٹروی ایم جوشی (P.S.I. Airport) نے مجھے پہچان لیا۔ انھوں نے میرے بورڈنگ کارڈ پر اسٹیمپ لگانے کے بعد کہا کہ میں نے آپ کی تقریر سنی ہے اور اخباروں میں بھی کئی بار آپ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader