بمبئی کا سفر
Urdu book, p. 278
By Maulana Wahiduddin Khan
کو پڑھا ہے۔ میں یہ سمجھاہوں کہ آپ یہ کہتے ہیں کہ اوپری باتوں میں الجھنا چھوڑ دو اور جو اندر کی آتما ہے اس سے بات کرو۔ مسٹر جوشی کی زبان سے یہ الفاظ سن کر مجھے خوشی ہوئی۔ کیوں کہ انھوں نے ہمارے مشن کا خلاصہ بیان کر دیا تھا۔ واقعہ یہی ہے کہ آج تمام لوگ اوپری باتوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اوپری باتیں ہمیشہ کٹی ہوتی ہیں۔ اس لئے ان پر زور دینے سے ہمیشہ جھگڑا پیدا ہوتا ہے۔ اگر لوگ آتما سے بات کرنے لگیں تو اختلاف اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔ مسٹر وی ایم جوشی کی یہ بات مجھے پسند آئی۔ مسٹر جوشی کو اتنی زیادہ دل چسپی تھی کہ وہ مسلسل بات کئے جا رہے تھے۔ یہاں تک کہ ایئر پورٹ کی ایک خاتون آئیں، انھوں نے کہا کہ جہاز کی روانگی کا وقت ہو گیا۔ اس کے بعد میں تیزی سے چل کر جہاز تک پہنچا۔ میں آخری مسافر تھا جو جہاز کے اندر سوار ہوا۔ دوران پرواز راستہ میں کچھ اخبار دیکھئے۔ ہندی اخبار نو بھارت ٹائمس (۶ ستمبر ۱۹۹۳ ) کی پہلی سرخی یہ تھی : ہائی کورٹ کے آدیش پر روک لگانے سے انکار ۔ اندر کھولا تو اس کا ایڈیٹوریل ملک کی سیاسی صورت حال پر تھا۔ اس کا عنوان تھا : کیا ایو دھیا کے علاوہ کوئی صدا نہیں ؟ میں نے سوچا کہ ہندی اخبار کی یہ زبان اور اس کی یہ باتیں عین مسلمانوں کے موافق ہیں زبان کے اعتبار سے یہ تقریباً اردو ہے۔ اور مضمون کے اعتبار سے وہ تقریبأ اسی نقطہ نظر کی ترجمانی ہے جو مسلمانوں کا نقطۂ نظر ہے۔ ایسی حالت میں اگر مسلمان ملک کی صحافت کے شاکی ہوں تو میں نہیں سمجھتا کہ انصاف کی عدالت سے ان کو حق بجانب ہونے کا سر ٹیفکٹ دیا جا سکتا ہے۔ انگریزی اخبار ، دی انڈین پنڈنٹ (۶ ستمبر) دیکھا۔ صفحہ اول کی ایک خبر یہ تھی کہ وزیر اعظم ہند نر سمہا راؤ چین کے تاریخی سفر پر روانہ : Rao leaves on historic China visit today. خبروں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان اور چین نے اپنے سرحدی جھگڑے کو اس طرح ختم کر دینے کا فیصلہ کیا ہے کہ ایکچول لائن آف کنٹرول کو کم از کم عملی طور پر بطورسرحد تسلیم کر لیا جائے۔ میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader