بمبئی کا سفر
Urdu book, p. 281
By Maulana Wahiduddin Khan
بمبئی کا سفر بھارتیہ ودیا بھون (بمبئی) کے تحت مسٹر این راماکرشنن کے دستخط سے ایک دعوت نامہ ملا۔ اس میں بتایا گیا تھا کہ ۲۰ نومبر ۱۹۹۳ کو بمبئی میں ایک خصوصی جلسہ ہورہا ہے۔ یہ کانچی کام کوٹی پیٹھم (شنکراچاریہ) کی صد سالہ تقریبات (centenary celebrations) کے ذیل میں ہے۔ اس میں مجھے شرکت اور خطاب کی دعوت دی گئی تھی۔ اس کے مطابق بمبئی کا سفر ہوا۔ بھارتیہ ودیا بھون ہندوستان کا ایک بہت بڑا تعلیمی اور اشاعتی ادارہ ہے۔ اس کو ڈاکٹر کے ایم منشی نے ۱۹۳۸ میں قائم کیا تھا۔ اس کے تحت بہت سے تعلیمی اور اشاعتی ادارے قائم ہیں۔ اس نے ہندو ازم اور ہندوستانی تہذیب کے مختلف پہلوؤں پر سیکڑوں کتابیں شائع کی ہیں۔ اس کا چھوٹے سائز پر ۸۰ صفحہ کا ہفت روزہ Bhavan’s Journal نکلتا ہے جس کی اشاعت سات لاکھ سے زیادہ ہے۔ اس کا شمارہ ۱۶۔ ۳۱ مئی ۱۹۸۸ میں نے بمبئی میں دیکھا جو کانچی شنکراچاریہ کے نمبر کے طور پر شائع کیا گیا تھا۔ اس کا ایک دلچسپ واقعہ آئندہ صفحات میں نقل کیا جائے گا۔ اس جنرل کا میں نے ایک اشتہار پڑھا۔ اس اشتہار میں میگزین کے بارہ میں یہ تعارفی جملہ لکھا گیا تھا : More than a magazine, a moral force. ٹکٹ آیا تو اس کے لفافہ پر ٹریول ایجنسی کا نام سیتا (SITA) لکھا ہوا تھا۔ یہ ایک مشہور سفری ایجنسی ہے۔ نام کی مشابہت سے بظاہر خیال ہوتا ہے کہ اس سے مراد شاید رام کی بیوی سیتا ہیں اور کسی ہندو نے عقیدت مندی کے تحت کمپنی کا یہ نام رکھا ہے۔ مگر ایسا نہیں۔ یہ ایک فرانسیسی کمپنی ہے جس کے دفتر ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ سیتا در اصل مخفف ہے، پورا نام اس طرح ہے : Society International Telecommunication Aeronatiques یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ محض ظاہری مشابہت کی بنا پر کسی شخص کو کسی اور کے ساتھ بریکٹ نہیں کرنا چاہیے۔ مثلاً کسی مسلمان کی کوئی بات جزئی یا وقتی طور پر کسی غیر مسلم کی بات سے مطابق نظر آرہی ہو تو اس بنا پر یہ کہنا درست نہیں کہ یہ مسلمان فلاں غیر مسلم کی بولی بول رہا ہے۔ اس طرح کی ضمنی مشابہت تمام علماء اور بزرگوں کے یہاں تلاش کی جاسکتی ہے۔ مگر ظاہر ہے کہ اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader