Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 283

By Maulana Wahiduddin Khan

گفتگو کے دوران میں نے ان سے پوچھا کہ اچاریہ جی کی کوئی خاص بات بتائیے جس نے آپ کو متاثر کیا۔ انہوں نے کہا کہ سب سے بڑی چیز جو میں نے اچاریہ جی میں پائی وہ پیار ہے۔ کتنا ہی دماغ میں ٹینشن ہو، اچاریہ جی کے پاس چلے جائیں تو منٹوں میں سارا ٹینشن ختم ہو جاتا ہے۔ کبھی بار ایسا ہوا کہ میں ٹینشن میں بھرا ہوا ان کے پاس پہنچا۔ جیسے ہی انہوں نے کہا "ہوگو تم، کیسے ہو، تو ایسا لگا جیسے کسی نے ٹھنڈا پانی ڈال دیا ہو۔ اس سلسلے میں انہوں نے اپنے کئی ذاتی واقعات بتائے۔ ایئر پورٹ پر ایک غیر مسلم مسافر سے بات ہوئی۔ مجھ کو مسلمان کی صورت میں دیکھ کر انہوں نے کہا کہ معاف کیجئے، آپ سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں۔ آخر کیا وجہ ہے کہ مسلمان ہر جگہ مار دھاڑ اور تشدد کا طریقہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ میں نے مسلمانوں کے میگزین پڑھے ہیں۔ آپ لوگ کہتے ہیں کہ یہ دشمنوں کا پروپیگنڈا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ پروپیگنڈا کیسے ہے۔ ہم تو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ کشمیر سے لے کر بوسنیا تک اور مہم سے لے کر الجزائر تک ہر جگہ مسلمان تشدد کا طریقہ اپنائے ہوئے ہیں۔ پھر اس میں پروپیگنڈا کی بات کیا ہے۔ ان کو میں نے ایک وقتی جواب دے دیا۔ مگر بعد کو میں نے اس پر سوچا تو میری سمجھ میں آیا کہ اس کا اصل سبب وہ نام نہاد مفکرین اسلام اور نااہل قائدین اسلام ہیں جنھوں نے مسلمانوں کو الٹا سبق دیا۔ انھوں نے مسلمانوں میں تواضع کے بجائے فخر کا مزاج بنایا۔ انھوں نے اطاعت کے بجائے حاکمیت کا جذبہ پیدا کیا۔ انھوں نے روحانیت کے بجائے سیاست کو ابھارا۔ انھوں نے مسلمانوں کو خدا کی عظمت کے بجائے ذاتی عظمت کا پیغام دیا۔ انھوں نے مفاہمت کے بجائے ہلڑ اور کار استہ بتایا۔ اس معکوس رہ نمائی نے دور جدید کے مسلمانوں کے ذہن کو اس طرح لگاڑ دیا ہے کہ اب ان کو جنگجویٔ کے سوا کرنے کا اور کوئی کام نظر نہیں آتا۔ فرق یہ ہے کہ کوئی 'نفظی جنگجوی' میں مصروف ہے اور کوئی شمشیری جنگ جوئی میں۔ جہاز دو گھنٹہ کی تاخیر سے ساڑھے گیارہ بجے روانہ ہوا۔ راستہ میں انگریزی اخبار ہندو (۲۰ نومبر) کا مطالعہ کیا۔ اس میں ہر روز پچاس سال پہلے کی چھپی ہوئی کوئی خبر نقل کی جاتی ہے۔ آج کے پرچہ میں ۲۰ نومبر ۱۹۳۳ کے شمارہ سے لے کر ایک خبر شائع کی گئی تھی۔ اس وقت ملک کے بعض حصوں میں قحط پڑا ہوا تھا۔ مسلم لیگ کے لیڈر مسٹر محمد علی جناح نے پارلیمنٹ میں اس پر ایک جذباتی تقریر کی ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page