بمبئی کا سفر
Urdu book, p. 284
By Maulana Wahiduddin Khan
انہوں نے کہا کہ برٹش گورنمنٹ کا یہ کہنا ہے کہ ہم ۱۹۳۹ سے ہر سال ملک میں غذائی کانفرنسیں (Food Conferences) کمر رہے ہیں۔ مسٹر جناح نے قہقہہ کے درمیان کہا کہ گورنمنٹ کے اس عمل پر خوش ہیں۔ اگر چہ ان کانفرنسوں کا انجام یہ ہے کہ ہزاروں ہندوستانی اب بھی مررہے ہیں : ...though the net result of the conferences was that thousands of Indians were still dying. (p.8) عجیب بات ہے کہ یہی الفاظ خود مسٹر جناح پر زیادہ بڑے پیمانے پر صادق آئے۔ انھوں نے کانفرنسوں کی دھوم مچا کر پاکستان بنوایا۔ اس وقت وہ پرجوش طور پر کہتے تھے کہ پاکستان بننے کے بعد برصغیر ہند کے مسلمانوں کے مسائل حل ہو جائیں گے۔ مگر اصل نتیجہ یہ ہے کہ تقسیم سے نہ پاکستانی مسلمانوں کا مسئلہ حل ہوا اور نہ ہندوستانی مسلمانوں کا ۔ پاکستان بننے کے پچاس سال بعد بھی تمام مسائل مزید اضافہ کے ساتھ باقی ہیں۔ ہندوستان میں ہوائی سفر کے ترقیاتی پرو گرام کے بارہ میں ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ جلد ہی ایسا ہوگا کہ دہلی کی ایک تجارتی کمپنی اپنے مینیجر سے کہے گی کہ تم کو فورا کمپنی کے ممبئی آفس پہنچنا ہے۔ مینیجر ایک پرائیویٹ ایر لائنز کو ٹیلی فون کرے گا۔ ادھر سے آواز آئے گی کہ جہاز تیار ہے۔ آپ جلد ائیر پورٹ آجائیے ۔ ہم آپ کو جہاز کے اندر ہی ٹکٹ دے دیں گے۔ آپ کو اپنا سامان سنبھالنے کی ضرورت نہیں۔ ہمارا آدمی آپ کا سامان آپ کے گھر سے لے کر اس کو سیدھے ہوائی جہاز میں لاد دے گا۔ اور پھر ممبئی میں خود آپ کے دفتر میں پہنچادے گا۔ مینیجر دہلی سے روانہ ہو کر بمبئی میں اتھرے گا تو وہاں ائیر پورٹ پر پہلی کا پٹر موجود ہوگا جو اس کو فورا ہی لے کر اڑے گا اور نر یمین پوائنٹ پر اتار دے گا۔ بزنس مینیجر اپنے دہلی کے مکان سے ممبئی کے دفتر تک صرف چار گھنٹہ میں پہنچ چکا ہوگا۔ تاہم بعض اوقات جلدی کے بجائے دیر مطلوب چیز بن جاتی ہے ۔ جون ۱۹۹۳ میں مسٹر ایل کے آڈوانی کو دہلی سے بنگلور پہنچنا تھا تاکہ وہ بی جے پی کی چودھو میں نیشنل کونسل (۱۸ جون) میں شرکت کرسکیں ۔ انھوں نے یہ سفر ٹرین کے ذریعہ کیا اور دو گھنٹہ کے بجائے ۴۲ گھنٹہ میں بنگلور پہنچے ۔ ایسا انھوں نے اس لیے کیا کہ راستہ میں سترہ اسٹیشنوں پر اکٹھا کیے ہوئے مجمع کو خطاب کر سکیں ۔ بمبئی ائیر پورٹ پر مسٹر مدھو مہتا اور کئی ساتھی موجود تھے ۔ ان کے ہمراہ روانہ ہو کر مسٹر مدھو مہتا کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader