Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 285

By Maulana Wahiduddin Khan

رہائش گاہ (نیپین سی روڈ) پر پہنچے۔ یہاں دوپہر کا کھانا کھایا گیا۔ اس دوران گفتگو میں بہت سی باتیں سامنے آئیں۔ مسٹر دھوجو ہتا نے نہایت درد کے ساتھ کہا کہ مسلمانوں کے رہنماؤں میں آپ کے سوا مجھے کوئی بھی رہنما نہیں معلوم جو ہلکی مسائل پر بولتا ہو۔ یہ لوگ جب بھی زبان کھولتے ہیں تو صرف اپنی کمیونٹی کے مسائل پر بولتے ہیں۔ یہ طریقہ نہ صرف یہ کہ ملک کے انٹرسٹ میں نہیں ہے، وہ خود مسلم کمیونٹی کے انٹرسٹ میں بھی نہیں ہے۔ میں نے کہا کہ مجھے آپ کے اس تبصرہ سے پورا اتفاق ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ مسلمانوں کے تمام رہنما، خواہ وہ باریش ہوں یا بے ریش ، وہ سب کے سب فرقہ دارانہ سوچ میں مبتلا ہیں۔ ان کی سوچ ملک کے مفاد پر نہیں چلتی۔ وہ سارے عالم کے قائد ضرور بننا چاہتے ہیں۔ مگر سارے عالم کے مفاد سے انھیں کوئی دل چسپی نہیں۔ یہ روش نہ عقل کے مطابق ہے اور نہ اسلام کے مطابق۔ جناب آفتاب احمد صاحب نے کہا کہ میں تو اکثر یہ کہتا ہوں کہ موجودہ زمانہ میں ہندوؤں اور مسلمانوں میں کوئی فرق باقی نہیں رہا ہے۔ دونوں ہی لکشمی کے پجاری ہیں۔ ہندو لکشمی کا بت باہر رکھ کر پوجتا ہے۔ مسلمانوں نے لکشمی کا بت خود اپنے سینہ کے اندر بنارکھا ہے۔ ایک ظاہری لکشمی کی پوجا کرنے میں مصروف ہے، اور دوسرا قبلی لکشمی کی پوجا کرنے میں۔ میں نے کہا کہ آپ کی یہ بات حدیث کے عین مطابق ہے۔ کیونکہ حدیث میں آیا ہے کہ ہر امت کا ایک فتنہ (سامان آزمائش) ہوتا ہے اور میری امت کا فتنہ مال ہے۔ اب وہی دور آگیا ہے۔ مال لوگوں کی تمام تو جہات کا مرکز بن گیا ہے۔ ظاہری دین کچھ اور ہو، مگر حقیقی دین ہر ایک کا مال ہے۔ آج سب سے زیادہ اسی قلبی بگاڑ کی اصلاح کی ضرورت ہے۔ بمبئی کو انڈیا کی کمر شیل راجدھانی کہا جاتا ہے بمبئی میں سب سے پہلے صنعت کاری (industrialisation) کا عمل شروع ہوا مگر اب بمبئی کی حالت اتنی خراب ہے کہ کہا جانے لگا ہے کہ بمبئی میں اب deindustrialisation کا عمل شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ بمبئی میں صنعتی کثافت بہت زیادہ بڑھ چکی ہے۔ ورلڈ بینک کے ایک برٹش نمائندہ نے کہا کہ گریٹر بمبئی کے ایریا میں جتنی سڑکیں ہیں، اتنے ایریا میں لندن اور پیرس میں دگنا سڑکیں بنی ہوئی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page