Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 287

By Maulana Wahiduddin Khan

قیام نہ کر سکا۔ وہ ہندوستان کے مختلف شہروں میں گھومتا رہا۔ یہاں تک کہ اڈریسہ میں اس نے ایک ملازمت کر لی۔ ہالڈین تعلیم کے اعتبار سے سائنس داں تھا۔ بعد کو وہ کمیونسٹ بن گیا۔ وہ لندن کے کمیونسٹ اخبار Daily Worker کا ایڈیٹر بھی رہا۔ مگر بعد کو اسے کمیونسٹ پارٹی سے مایوسی ہوئی۔ اور وہ اس سے الگ ہو گیا۔ اصل یہ ہے کہ ہالڈین نظریاتی کمیونسٹ سے زیادہ اخلاقی کمیونسٹ تھا۔ اس کی دو کتابیں یہ ہیں : Science and Ethics (1932) The Inequality of Man (1932) ہر تحریک اور ہر جماعت میں یہ معاملہ پیش آتا ہے۔ بہت سے لوگ اپنے ذہنی ڈھانچے کے تحت کسی تحریک میں چلے جاتے ہیں۔ بعد کو عدم اتفاق ظاہر ہوتا ہے۔ اور پھر وہ دور ہونے لگتے ہیں، یہاں تک کہ اس سے الگ ہو جاتے ہیں۔ مولا نا حافظ الرحمن صاحب آخر عمر میں علاج کے لیے بمبئی آئے تھے۔ ڈاکٹر پانڈے (دہلی) نے مولانا کا خون ٹیسٹ کرایا تو اس میں کینسر کے جراثیم پائے گئے۔ ڈاکٹر پانڈے نے فوراً ہی مولانا کو بمبئی لے جانے کی درخواست کی۔ چنانچہ ۲۶ جنوری ۱۹۶۲ کو ہوائی جہاز سے مولانا کو بمبئی لے جایا گیا، گورنر بمبئی شری پرکاش مولا نا کے پرانے رفیق تھے انھوں نے ٹاٹا ہوسپٹل میں مولانا کو داخل کرایا، ایک ماہ وہاں علاج ہوتا رہا۔ ۲۶ فروری کو مولانا دہلی واپس پہنچے۔ مگر حالت بگڑتی گئی۔ ۲ اگست ۱۹۶۲ کو مولانا کا انتقال ہو گیا۔ بمبئی کے ساتھ ٹاٹا کا نام بہت زیادہ جڑا ہوا ہے۔ موجودہ جے آر ڈی ٹاٹا کی عمر اب ۸۹ سال ہو چکی ہے۔ ان کو حال میں گر وہ کی تکلیف ہوئی وہ علاج کے لیے جنیوا چلے گئے (جنیوا میں ۲۹ نومبر ۱۹۹۳ کو نیند کی حالت میں ٹاٹا کا انتقال ہو گیا) جے آر ڈی ٹاٹا کو ۱۹۳۸ میں جب ٹاٹا سنز کا چیرمین بنایا گیا اس وقت اس کے تحت چودہ کمپنیاں تھیں۔ مگر ٹاٹا اپنی آخری عمر میں ۹۵ کمپنیوں کو کنٹرول کر رہے تھے جن کا گروپ سیل 10,000 کروڑ روپیہ سالانہ تک پہنچ چکا تھا۔ جے آر ڈی ٹاٹا کی زندگی واقعات سے بھری ہوئی ہے۔ ۱۹۳۰ میں انھوں نے آسٹریلیا کی ایک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page