Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 288

By Maulana Wahiduddin Khan

خاتون تھیلما (Thelma) سے شادی کی۔ اس کے بعد وہ ہنی مون منانے کے لیے دار جیلنگ گئے۔ ایک روز وہ سڑک پر نکلے تو ساری ٹریفک رکی ہوئی تھی۔ کیونکہ بنگال کے انگریز گورنر سر اسٹینلی جیکسن کو وہاں سے گزرنا تھا۔ ٹاما کنارے کھڑے ہوئے انتظار کرتے رہے۔ جب گورنر کی کار سامنے آئی تو وہ دوڑ کر اس کے پاس گئے اور چلا کر کہا کہ آخر تم اپنے کو کیا سمجھتے ہو کہ تم کیا ہو۔ تم نے .. ۵ لوگوں کو یہاں ٹھنڈ میں ایک گھنٹہ سے روک رکھا ہے، تم بڑے ہی احمق ہو۔ تاہم برطانی حکمران ان سے برہم نہیں ہوئے۔ اس کے باوجود انھوں نے ٹاما کو سر کے خطاب کی پیش کش کی جس کو لینے سے ٹاما نے نرمی کے ساتھ انکار کر دیا : بمبئی سے ایک اردو اخبار نکلتا ہے۔ اس کا نام مضمون ہے۔ اس کے شمارہ ۱۵ نومبر ۱۹۹۳ء میں صفحہ اول پر ۳۰ ستمبر ۱۹۹۳ء کو آنے والے زلزلے کی تفصیلات تھیں جس سے مہاراشٹر میں لاتور اور عثمان آباد کے علاقہ میں سخت تباہی برپا ہوئی تھی۔ اس کی دوسری سرخی یہ تھی : مرٹھواڑہ کے زلزلہ میں جب ہزاروں انسان موت کے منہ میں چلے گئے اس وقت بال ٹھاکرے اور ایڈوانی کہاں غائب رہے گویا کہ ۳۰ سیکنڈ جاری رہنے والے اس زلزلے میں بال ٹھاکرے اور ایڈوانی کو دوڑ کر وہاں پہنچنا چاہیے تھا اور زلزلے کو روک دینا چاہیے تھا۔ مسلمانوں کی صحافت زیادہ تر ”نوک جھونک“ کا نام ہے۔ مختلف اخبارات میں صرف لہجہ کا فرق ہے، حقیقت کے اعتبار سے ان میں کوئی فرق نہیں۔ بمبئی کے ایک مسلم دانشور کا مقالہ پڑھا۔ اس میں شکایت کی گئی تھی کہ ہم جانتے ہیں کہ پولیس بڑی حد تک ہندو فرقہ واریت سے متاثر ہو چکی ہے۔ اگر مسلمان پتھر پھینکتا ہے تو اس کا جواب وہ گولیوں سے دیتی ہے اور اس کا خمیازہ اکثر بے گناہ مسلمانوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔“ اسی مقالہ کے ایک اور پیرا گراف میں کہا گیا تھا کہ ”پنجاب اور کشمیر کی مثالیں ہمارے سامنے موجود ہیں۔ مسلح گروہ اختلاف رائے کو بالکل برداشت نہیں کر پاتے اور بہت جلد ان افراد کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page