Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 289

By Maulana Wahiduddin Khan

گولیوں کا نشانہ بنانا شروع کر دیتے ہیں جو ان سے ذرا سا بھی اختلاف رکھتے ہوں۔ نفسیاتی طور پر بندوق اٹھانے والے ذہن پر ہمیشہ شک اور خوف کی کیفیت طاری رہتی ہے۔ اسے ہر مخالف دشمن یا دشمن کا ایجنٹ نظر آتا ہے۔ وہ اختلاف اور دشمنی میں فرق کرنے سے قاصر ہو جاتا ہے۔ چنانچہ کشمیر اور پنجاب میں معمولی اختلافات پر اپنوں ہی پر گولی چلا دینے کے واقعات آئے دن ہوتے رہتے ہیں۔ ان دونوں پیراگراف پر غور کیجئے ۔ پولیس اگر پتھر کے جواب میں گولی چلا لے تو وہ فرقہ واریت کا واقعہ ہے۔ اور ایک کشمیری مسلمان صرف لفظی اختلاف پر دوسرے مسلمان کو گولی مارے تو یہ اسلحہ کی نفسیات کے زیر اثر ہے۔ مسلمان اپنی اسی تضاد فکری کی بنا پر حقائق کو سمجھ نہیں پاتے۔ اصل یہ ہے کہ جس آدمی کے ہاتھ میں اسلحہ ہو وہ نفسیاتی طور پر نارمل حالت میں نہیں ہوتا۔ خواہ وہ کشمیری مجاہد ہو یا ایک مسلح پولیس۔ مسلمان اگر اس راز کو سمجھ لیں تو وہ مسلح پولیس سے ٹکراؤ کو اوائڈ کر کے نہایت آسانی کے ساتھ اس کی گولی کا نشانہ بننے سے بچ سکتے ہیں۔ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کو بابری مسجد کے انہدام کے بعد بمبئی اور سورت میں فساد ہوا۔ مسلم رپورٹوں میں اس کی ذمہ داری پولیس اور فرقہ پرست ہندوؤں پر ڈالی گئی ہے۔ مگر شرعی اصول کے مطابق، اس کی ذمہ داری تمام تر مسلمانوں کی نااہل لیڈر شپ کے اوپر عائد ہوتی ہے۔ حدیث میں ہے کہ ان الفتنة نائمة لعن الله من ييقظها۔ اس حدیث میں صاحب فتنہ کی مذمت نہیں کی گئی ہے بلکہ موقظ فتنہ کی مذمت کی گئی ہے۔ اُس شرعی اصول کی روشنی میں دیکھئے، بابری مسجد کا مسئلہ عرصہ سے ایک نزاعی مسئلہ بنا ہوا تھا۔ اس نزاعی مسئلہ کو لازمی طور پر مقامی دائرہ میں محدود رکھنا تھا۔ مگر مسلمانوں کے بے ریش اور بابریش رہنماؤں نے مشترکہ طور پر اس کو بڑھایا۔ یہاں تک کہ اس کو پورے ملک کے ہندوؤں کے لیے وقار کا مسئلہ بنا دیا۔ یہ گویا ایقاظ فتنہ تھا اور اسی کی آخری حد تھی بابری مسجد کا ڈھایا جانا۔ ۶ دسمبر کو جب بابری مسجد ڈھائی گئی تو اس وقت ہندوؤں کے جذبات انتہائی حد تک بڑھے ہوئے تھے۔ مگر دوبارہ نااہل مسلم لیڈروں نے یہ غلطی کی کہ بابری مسجد ڈھائے جانے کے بعد بمبئی میں پولیس اور سرکار کے خلاف توڑ پھوڑ کی۔ سورت میں، دسمبر کو ہڑتال کی کال دی۔ ہندو جب اپنی دکانیں بند کرنے پر راضی نہیں ہوئے تو ان پر پتھر او کیا۔ ماحول پہلے ہی سے چارج تھا۔ فوراً فساد بھڑک اُٹھا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page