بمبئی کا سفر
Urdu book, p. 290
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ ناہاہل لیڈر شپ اگر مسجدوں میں بیٹھ جائے اور مسلمانوں کو اپنے حال پر چھوڑ دے تو ہر قسم کا فساد ہندوستان سے ختم ہو جائے ، جیسا کہ لیڈروں کی ظہور سے پہلے اسی ملک میں تھا۔ لاہور کے روزنامہ نوائے وقت ( ۴ نومبر ۱۹۹۳) میں پاکستان کے نومنتخب صدر سردار فاروق احمد خان لغاری (بھٹو پارٹی کے سابق چیف آرگنائزر) کے بارہ میں ایک خبر تھی۔ سردار لغاری صدارتی انتخاب میں اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد مسٹر آصف علی زرداری، مولانا کوثر نیازی، اور مسلم لیگ کے سیکرٹری اقبال احمد خاں کے ہمراہ اسلام آباد سے بذریعہ کار رائے ونڈ گئے تھے۔ جہاں انھوں نے تبلیغی اجتماع میں شرکت کی اور ایک گھنٹہ قیام کیا۔ رائے ونڈ سے جب وہ لاہور کے لیے روانہ ہوئے تو راستہ میں انھیں صدر مملکت کے عہدہ پر کامیابی کی اطلاع ملی۔ چنانچہ لاہور پہنچتے ہی وہ حضرت داتا گنج بخش کے مزار پر گئے اور وہاں شکرانہ کے نوافل ادا کیے ۔ شاید کوئی صاحب تعجب کریں کہ تبلیغی جماعت کے اجتماع میں شرکت اور داتا گنج کے مزار پر حاضری میں کیا جوڑ ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ دونوں میں گہری مناسبت ہے۔ یہ دراصل ”برکتی مذہب“ کا کرشمہ ہے ۔ موجودہ زمانہ میں سب سے زیادہ زور اسی برکت والے مذہب کا ہے۔ یہ مذہب ہندوؤں میں بھی بہت بڑے پیمانہ پر موجود ہے۔ اس کے کچھ نمونے مجھے بمبئی کے سفر میں دیکھنے کو ملے ۔ ایک صاحب نے کہا کہ میں نے سنا ہے کچھ مسلمانوں نے آپ کے قتل کا اعلان کیا ہے حتی کہ یہ اعلان بھی کیا ہے کہ جو آپ کو قتل کرے اس کو وہ پانچ لاکھ روپیہ انعام دیں گے۔ میں نے کہا کہ اکتوبر ۱۹۹۳ء میں انھوں نے یہ اعلان کیا تھا۔ اللہ کے فضل سے وہ مجھ کو قتل تو نہیں کر سکے ۔ البتہ اس کے ذریعہ مسلمانوں کے نام نہاد رہنما اور دانشور حضرات ضرور قتل ہو گئے ہیں ۔ اس واقعہ نے نام نہاد رہنماؤں کو ایکسپوز کیا اور ایکسپوز کیے جانے کا نام ہی قتل ہونا ہے ۔ اس قسم کا اعلان موت اسلام میں سراسر حرام ہے۔ یہ ایسا فعل تھا جس پر مسلمانوں کے تمام علماء اور تمام دانشوروں کو تڑپ اٹھنا چاہیے تھا اور اخباروں میں مذمت کا متفقہ بیان چھپوانا چاہیے تھا۔ مگر کسی بھی قابل ذکر عالم یا دانشور کو اس خلافِ اسلام حرکت پر پریشانی لاحق نہیں ہوئی اور نہ کسی نے اس کی مذمت میں کوئی بیان شائع کیا۔ اس واقعہ نے ان تمام لوگوں کو ایکسپوز کر دیا ہے جو ملت کے مسائل پر بولنے کو اپنا حق وشام کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader