بمبئی کا سفر
Urdu book, p. 291
By Maulana Wahiduddin Khan
مسئلہ بنائے ہوئے ہیں۔ مگر اس انتہائی اہم معاملہ میں وہ بالکل خاموش رہے۔ اس سے یہ ثابت ہو گیا کہ ہمارے علما، اور دانشوروں پر بے حسی کی مردنی چھائی ہوئی ہے۔ انھوں نے لیڈری کو ذاتی مفاد کے طور پر اختیار کیا ہے نہ کہ خدمتِ ملی کے کیلیے۔ یہ سب کے سب مردہ لوگ ہیں۔ ان کی نام نہاد سرگرمیاں دراصل حرکت مذبوبی ہیں نہ کہ حقیقی معنوں میں کوئی زندہ حرکت۔ زندہ آدمی کی پہچان اصول پر بے چین ہونا ہے اور مردہ آدمی کی پہچان مفاد پر بے چین ہونا۔ تاہم عام مسلمانوں میں سے بعض دردمند حضرات نے اس سلسلہ میں خطوط کی شکل میں اپنے اضطراب کا اظہار کیا ہے۔ مثلاً قومی آواز (۲۴ نومبر ۱۹۹۲) میں چھپنے والا ایک خط حسب ذیل ہے، جو "قتل کی دھمکی" کے عنوان سے شائع ہوا ہے : " مورخہ ۱۳ نومبر کے قومی آواز میں جناب مولانا وحید الدین خاں صاحب کا مضمون "قتل مسئلے کا حل نہیں" شائع ہوا ہے جس کے ذریعہ یہ جان کر بے انتہا افسوس ہوا کہ کچھ لوگ ان کے قتل پر (انعام واکرام) کا بھی اعلان کر چکے ہیں۔ خدا آج کے جذباتی اور انا پرست انسانوں کو ہدایت نصیب کرے۔ حضرت مولانا کا مضمون نہایت شستہ اور صاف ستھرا ہے اور مشورہ مفید اور لائقِ عمل۔ خواہ وہ بالخصوص کشمیری نوجوانوں کے لیے ہو یا عام ہندوستانی کے لیے۔ میں سمجھتا ہوں ہر شریف النفس امتی کو مولانا کے اس خیال کا قائل ہونا چاہیے کہ جنگ کی طاقت کے مقابلے میں امن کی طاقت زیادہ با اثر ہوتی ہے۔ اور حضرت بل بحران کے معاملہ میں حکومت کا مسلسل طرح دینا اسی مصلحت پر مبنی ہو تو کچھ بعید نہیں" سید عارف لکھنوی ۔ اے ۱۲۔ امیر منزل ۔ قلعہ روڈ۔ اے ایم یو علی گڑھ ۲۰ نومبر کی شام کو ودیا بھون کے ہال میں جلسہ تھا۔ وسیع ہال مکمل طور پر بھرا ہوا تھا۔ اسٹیج پر کانچی پورم کے شنکر اچاریہ کے علاوہ کئی ممتاز افراد موجود تھے۔ مثلاً مسٹر نانی پالکی والا، مسٹر مدھو مہتا، مسٹر خوراکی والا، وغیرہ۔ جلسہ شروع ہوا تو کچھ خواتین اسٹیج پر آئیں۔ پہلے انھوں نے سنسکرت میں کچھ اشلوک پڑھے۔ اس کے بعد انھوں نے اعوذ باللہ اور بسم اللہ کہہ کر سورہ فاتحہ پوری قرأت کے ساتھ پڑھی، آخر میں حسب قاعدہ آمین کہا۔ اس کے بعد انھوں نے انگریزی میں بائبل کے کچھ حصے پڑھے۔ آخر میں سکھ دھرم کے کچھ کلمات پڑھ کر سنائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader