Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 292

By Maulana Wahiduddin Khan

مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے یہ اس بات کی علامت ہے کہ انڈیا مذہب کی نفرت سے مذہبی رواداری کی طرف جا رہا ہے ۔ انڈیا میں سب کچھ ہے ۔ مگر ایک چیز یہاں کے سماج سے نکل گئی ہے ، اور وہ مذہبی رواداری اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی ہے ۔ جس دن یہ چیز پیدا ہوگی اس دن ملک ترقی کی طرف بے روک ٹوک اپنا سفر شروع کر دے گا ۔ ہم سب لوگوں کو مل کر اسی کی پرارتھنا کرنا ہے ۔ مسٹر ایف ٹی خوراکی والا نے اپنی تقریر میں کہا کہ فنڈامنٹلسٹ اور فینینک میں ھم کو فرق کرتا چاہیے۔ فنڈامنٹلسٹ وہ ہے جو اپنے مذہب پر فخر کرے ۔ جب کہ فینینک وہ ہے جو دوسروں کے مذہب سے نفرت کرے ۔ اس نقطۂ نظر کی تفصیل کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہمیں فنڈامنٹلسٹ کو devout کہنا چاہیے۔ تا ہم میں سمجھتا ہوں کہ یہ فنڈامنٹلسٹ کی رعایتی تشریح ہے ۔ میرے نزدیک فنڈ منٹلسٹ وہ ہے جس میں کڑپن ہو۔ مذہب کی اصل روح تواضع اور ٹالرنس اور دوسروں کی خیر خواہی ہے۔ فنڈ منٹلسٹ ان روحانی اوصاف سے خالی ہوتا ہے۔ مسٹر نانی پالکی والا نے اپنی تقریر میں ایک ریسرچ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حیوانات کی وسیع دنیا میں کوئی حیوان نفرت کرنے پر قادر نہیں۔ یہ صرف انسان ہے جو نفرت کرنے کی قدرت رکھتا ہے : The only one in the entire animal kingdom who is capable of hatred is man. میں نے اپنی تقریر میں اس پر اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ انسان کے اندر یہ صلاحیت ہونا کہ وہ نفرت کر سکے ، اس کے لیے کوئی برائی کی بات نہیں ۔ بلکہ وہ نہایت اونچی بات ہے ۔ اس دنیا میں بہتر زندگی کی تعمیر کے لیے ضروری ہے کہ کوئی بھی دوسرے سے نفرت نہ کرے ۔ اس صفت کو خالق نے حیوانات کے اندر مجبوراً صورت میں پیدا کر رکھا ہے ۔ مگر انسان کو خدا یہ اعزاز دینا چاہتا ہے کہ وہ نفرت کی صلاحیت رکھنے کے باوجود دوسروں سے نفرت نہ کرے ۔ وہ انتقام لینے کی طاقت رکھتے ہوئے اپنے مخالف سے انتقام نہ لے ۔ اسی خاص عمل کی بنا پر انسان کے لیے جنت کا وعدہ ہے ، جب کہ جانوروں کے حصہ میں جنت کا داخلہ نہیں۔ میں نے اپنی آدھ گھنٹہ کی تقریر میں دو چیزوں پر خاص طور سے زور دیا ۔ ایک ، ہند و مسلم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page