بمبئی کا سفر
Urdu book, p. 293
By Maulana Wahiduddin Khan
میل ملاپ۔ اور دوسرے نیشنل کیرکٹر۔ ہندو مسلم میل ملاپ کی اہمیت کو بتاتے ہوئے کہا کہ اسی اتحاد کی خاطر مہاتما گاندھی نواکھلی (بنگلہ دیش) چلے گئے تھے۔ وہاں کے قیام کے دوران ۵ دسمبر ۱۹۴۶ء کو انھوں نے لکھا کہ میرا موجودہ مشن میری زندگی کا بہت مشکل اور بہت پیچیدہ مشن ہے۔ میں اس کی خاطر سب کچھ جھیلنے کے لیے تیار ہوں۔ یہ کرو یا مر کا امتحان ہے۔ اس وقت کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ہندو اور مسلمان دونوں امن کے ساتھ رہنا سیکھیں۔ ورنہ میں اسی راہ میں مرجاؤں گا : My present mission is the most difficult and complicated one of my life... I am prepared for any eventualiy. 'Do or die' has to be put to the test here. 'Do' here means Hindus and Musalmans should learn to live together in peace and amity. Otherwise, I should die in the attempt. (p. 449) نیشنل کیرکٹر کے سلسلے میں میں نے کہا کہ نیشنل کیرکٹر یہ ہے کہ نیشن (ملک) کے انٹرسٹ کو سپریم بنایا جائے ۔ جہاں ملک کا انٹرسٹ آجاۓ وہاں ذاتی انٹرسٹ کو سکینڈری بنا دیا جائے۔ جو لوگ جلسہ گاہ کے درمیان ہارس کے پیچھے تھے انھوں نے بتایا کہ لوگوں نے میری تقریر بہت زیادہ دھیان سے سنی۔ میری تقریر کے دوران بار بار God bless you کا جملہ بولتے رہے۔ تقریر کے بعد جب میں باہر جانے لگا تو بہت سے ہندو السلام علیکم کہہ کر مجھ سے مخاطب ہوئے۔ مختلف باتوں کے ساتھ میں نے ایک واقعہ سنایا جس کو میں نے بھارتیہ ودیا بھون کے جرنل (۱۹۱-۳۱ مئی ۱۹۸۸) میں پڑھا تھا۔ یہ ۱۹۲۰ء کا واقعہ ہے۔ مہاتما گاندھی جنوبی ہند کے دورہ پر تھے۔ کانچی کے شنکر آچاریہ جن کے استقبال میں یہ جلسہ کیا گیا ہے، اس وقت وہ وبے یاترا کے تحت کیرلا کے ایک گاؤں پال گھاٹ میں تھے۔ گاندھی جی ان سے ملنے کے لیے وہاں گئے۔ آچاریہ سنسکرت میں بولے اور گاندھی جی ہندی میں۔ اس طرح دونوں کے درمیان بات چیت ہوئی ۔ ۱۵ اکتوبر ۱۹۷۲ء کی شام کو دو مہاتماؤں کی یہ ملاقات ایک گھنٹے سے زیادہ دیر تک جاری رہی۔ جب شام کو ساڑھے پانچ بج گئے تو سی راج گوپال اچاری کمرہ میں داخل ہوئے، انھوں نے گاندھی جی کو یاد دلایا کہ اب بہت کم وقت رہ گیا ہے، اس لیے آپ شام کا کھانا کھا لیں۔ واضح ہو کہ گاندھی جی ۶ بجے کے بعد شام کا کھانا نہیں کھاتے تھے۔ مہاتما گاندھی نے راج گوپال اچاری کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ اچاریہ سے اس وقت میں جو بات کر رہا ہوں وہی میرا شام کا کھانا ہے :

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader