بمبئی کا سفر
Urdu book, p. 294
By Maulana Wahiduddin Khan
The conversation I am having with Acharya is itself my evening meal for today. شنکر اچاریہ آن کا پنچی نے آخر میں تقریر کی۔ منچ پر سب لوگ کرسیوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ مگر شنکر اچاریہ اپنے روایتی انداز میں منچ کے ایک کنارے گدی پر بیٹھے۔ ان کے ہاتھ میں کندھے سے اوپر تک اٹھا ہوا ایک سادہ بانس کا ڈنڈا تھا۔ انھوں نے پہلے سنسکرت کے کچھ اشلوک پڑھے۔ اس کے بعد سادہ انداز میں ایک تقریر کی ۔ انھوں نے کہا کہ مذہب روحانیت کا نام ہے۔ انھوں نے شانتی اور پیار کے ساتھ رہنے کی اپیل کی ۔ انھوں نے کہا کہ ہر منش بھگوان کا روپ ہے۔ پھر منش سے نفرت کرنا کتنا زیادہ برا ہے۔ آپ اس کو سمجھ سکتے ہیں۔ من پرورتن ہو کر ہمارے دیش کا کلیان ہوگا۔ ہم سب لوگوں کو مل کر اسی کی پرارتھنا کرنا ہے۔ ان کی تقریر سادگی، روحانیت اور تواضع کی کیفیت سے بھری ہوئی تھی۔ میں نے یہ بات سادھو سنتوں میں عام طور پر پائی ہے۔ قدیم ہندوستان میں صوفیاء کے ذریعہ ہندوؤں کے سادھو سنت کافی حد تک مسلمانوں سے جڑے ہوئے تھے۔ اب موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا تعلق زیادہ تر ہندوؤں کے پولینکل عناصر سے ہو گیا ہے۔ اس کی وجہ سے ہندوؤں کا صحیح تعارف مسلمانوں کے سامنے نہیں آتا۔ جلسہ کے بعد میں کچھ دیر کے لیے مسٹر مدھو ہتا کے مکان پر گیا۔ اس کے بعد جسٹس قاضی (36345471 :Tel) کی رہائش گاہ پر آگیا۔ رات کا قیام یہیں پر رہا۔ رات کو دیر تک جسٹس قاضی سے اور مسٹر فاروق فیصل اور مسٹر آفتاب احمد سے باتیں ہوتی رہیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان میں کوئی قیادت نہیں ۔ میں نے کہا کہ صحیح بات یہ ہے کہ مسلمانوں میں مقبولیت قیادت کا فقدان ہے نہ کہ قیادت کا فقدان۔ میں نے کہا کہ سر سید احمد خاں متفقہ طور پر قیادتی اوصاف کے حامل تھے۔ انھوں نے غدر، ۱۸۵ کے بعد کہا کہ مسلمانوں کے مسئلہ کا حل ایجو کیشن ہے۔ اس کے ۱۲۵ سال بعد جاپان کے ہیرو ہٹو نے بھی کہا کہ جاپان کے مسئلہ کا حل ایجو کیشن ہے۔ جاپان کا مسئلہ حل ہو گیا، ہمارا مسئلہ آج تک حل نہیں ہوا۔ اس کی وجہ قیادت کا فقدان نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جاپان کی قوم نے ہیرو ہٹو کے مشورہ کو مان کر تعلیم میں آگے بڑھنا شروع کر دیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader