بمبئی کا سفر
Urdu book, p. 295
By Maulana Wahiduddin Khan
مسلمانوں نے سرسید کے مشورہ کو نہیں مانا۔ میں نے کہا کہ سچا مصلح ہمیشہ لوپر وفائل میں بولتا ہے۔ مگر مسلمان اپنی پر فخر نفسیات کی وجہ سے ہائی پر وفائل میں بولنے والوں کے پیچھے دوڑتے ہیں۔ یہی ہمارا اصل قیادتى مسئلہ ہے۔ بمبئی میں قیام کے دوران بہت سے ہندوؤں اور مسلمانوں سے ملاقات ہوئی۔ ایک مسلمان بزرگ نے کہا کہ آپ اکثر لکھتے رہتے ہیں کہ مسلمان احتجاج نہ کریں، مسلمان مظاہرہ نہ کریں، مسلمان مطالاباتی سیاست نہ چلائیں۔ آخر مسلمان کیوں نہ ایسا کریں جبکہ ملک کا دستور انھیں اس کی اجازت دیتا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ ہی جیسے لوگوں کے بارہ میں حدیث میں آیا ہے کہ من کان یؤمن بالله والیوم الآخر فليقل خيرا او ليصمت۔ آپ کو جاننا چاہیے کہ زندگی کے فیصلے قانون اور دستور کی بنیاد پر نہیں ہوا کرتے۔ زندگی کے فیصلے تاریخی حقیقتوں کی بنیاد پر ہوا کرتے ہیں۔ اگر آپ مسلمانوں کے رہنما بننا چاہتے ہیں تو آپ تاریخ کی طاقتوں کو جانیے۔ قانون اور دستور کے الفاظ کی مہارت پیشہ ور وکیل کے لیے مفید ہے مگر اس قسم کی مہارت مصلح اور قائد کے لیے ہلاکت کے ہم معنی ہے۔ ایک صاحب نے کہا کہ آپ نے بابری مسجد کے لیے جو فارمولا پیش کیا ہے اس میں آپ کی یہ بات تو سمجھ میں آتی ہے کہ مسلمان چپ ہو جائیں، کیوں کہ مسلمان اس معاملہ میں مضطر ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ آپ کہتے ہیں کہ مسلمان ایک مسجد کے بارہ میں چپ ہو کر ہندوؤں کو اس پر راضی کریں کہ وہ بھی ایک کے بعد دوسری مسجدوں کے بارہ میں خاموشی اختیار کر لیں ۔ آپ کی یہ دوسری بات تو ڈیل (deal) ہے۔ اور مضطر کے لیے ڈیل نہیں ہوتی ۔ ڈیل میں داخل ہوتے ہی حالت اضطرار ختم ہو جاتی ہے۔ میں نے کہا کہ یہ ایک بے اصل بات ہے۔ ہجرت کے پانچویں سال قبائل عرب کے مشترک لشکر نے مدینہ پر حملہ کیا۔ ان کی تعداد تقریباً ۱۲ ہزار تھی ۔ یہ لوگ ۲۵ دن تک مدینہ کو گھیرے رہے۔ مسلمان ان سے لڑنے کی پوزیشن میں نہیں تھے ۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ غطفان کے دو بڑے سرداروں کو بلا کر ان سے یہ گفتگو کی کہ وہ اپنے قبیلہ کے تمام لوگوں کو لے کر واپس چلے جائیں ۔ اس کے عوض انھیں مدینہ کی کھجوروں کا ایک تہائی حصہ دے دیا جائے گا۔ وہ لوگ راضی ہوگئے ۔ اس معاہدہ کی کتابت بھی ہو گئی ۔ تاہم دستخط سے پہلے بعض وجوہ سے وہ زیر عمل نہ آسکا (سيرة ابن ہشام (۲۳۹/۳

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader