بمبئی کا سفر
Urdu book, p. 296
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ واضح طور پر حالتِ اضطرار میں ڈیل کی ایک مثال ہے۔ پھر آپ کیسے کہتے ہیں کہ مضطر آدمی کے لیے ڈیل میں داخل ہونا جائز نہیں ۔ ۱۲ مارچ ۱۹۹۳ء کو بمبئی میں بم دھماکہ (bomb blasts) ہوا تھا۔ ایک خاتون جرنلسٹ تولین سنگھ نے اس کا جائزہ لینے کے بعد انڈین ایکسپریس (۲۳ مئی ۱۹۹۳) میں لکھا تھا کہ بمبئی میں ایسے مسلمان آسانی سے مل جائیں گے جو یہ خیال کرتے ہیں کہ بم دھماکہ ٹھیک تھا۔ کیوں کہ وہ ہندو انتہا پسندی کا منہ توڑ جواب تھا۔ اس کے مقابلے میں ایسے مسلمان مشکل سے ملیں گے جو اس کو ناپسند کریں۔ In Bombay, it is easier to meet Muslims who believe that the bombings were a good thing because they amounted to a moonhtod Jawab to Hindu fundamentalism than to meet Muslims who disapprove what happened میرے تجربے کے مطابق تولین سنگھ کی یہ بات درست ہے۔ مزید یہ کہ اس احساس میں وہ مسلم خواص بھی شریک ہیں جو مسلمانوں کا مقام یہ سمجھتے ہیں کہ وہ قیادتِ عالم کے منصب پر سرفراز ہوں ۔ ان خوش فہم حضرات کو یہ معلوم نہیں کہ قیادت عالم کا منصب کوئی نسلی حق نہیں ہے۔ یہ منصب ان لوگوں کے لیے مقدر ہے جو اس عالی ہمتی کا ثبوت دیں کہ وہ لوگوں کی اشتعال انگیزی پر صبر کرنے والے ہیں، وہ لوگوں کی زیادتیوں کے باوجود ان کے خیر خواہ بنے رہتے ہیں (السجدہ ۲۴) ایک تعلیم یافتہ ہندو نے کہا کہ مسلمان مانگ کرتے ہیں کہ انہیں کانسٹی ٹیوشن میں لکھے ہوئے رائٹس دیے جائیں۔ مگر اسی کانسٹی ٹیوشن میں تو کامن سول کوڈ بھی لکھا ہوا ہے۔ پھر مسلمان اس کی مخالفت کیوں کرتے ہیں، جب کہ قومی یکجا کے لیے کامن سول کوڈ کو دیش میں لاگو کرنا ضروری ہے ۔ میں نے کہا کہ اس سلسلے میں پہلا بنیادی سوال یہ ہے کہ کامن سول کوڈ ہے کیا۔ کانسٹی ٹیوشن میں یہ لفظ من و ر لکھا ہوا ہے مگر آج تک کسی نے نہیں بتایا کہ کامن سول کوڈ کیا ہے اور اس کی دفعات کیا ہوں گی۔ جو لوگ کامن سول کوڈ کے حامی، میں ان کو سب سے پہلے اس کا ایک نقشہ تیار کر کے شائع کرنا چاہیے تاکہ اس پر رائے دینا ممکن ہو سکے۔ دوسری بات یہ کہ کامن سول کوڈ کا قومی یکتا یا نیشنل انٹیگریشن سے کوئی تعلق نہیں کسی سماج میں قومی یکتا صحت مند مزاج کے ذریعہ آتی ہے نہ کہ کسی قسم کی قانون سازی کے ذریعہ ۔ ایک مسلم دانشور نے کہا کہ "آپ کا الرسالمشن کس مرحلہ میں ہے" میں نے کہا کہ الرسالمشن اب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader