بمبئی کا سفر
Urdu book, p. 297
By Maulana Wahiduddin Khan
میرا کہاں رہا ۔ اب تو وہ آپ سب کا ہو گیا ۔ ۶ دسمبر ۱۹۹۲ کے بعد اس میں ایک بریک تھرو ہوا ہے جس کے دو طرف اثرات آپ ہر جگہ دیکھ سکتے ہیں ۔ ایک طرف یہ حال ہے کہ تمام لکھنے اور بولنے والے مسلمان الرسالہ کی بولی بولنے لگے ہیں ۔ ہر ایک نے اپنی پچھلی بولیاں چھوڑ دی ہیں ۔ اب وہ الرسالہ والی بولی ـــــــــ دعوت ، صبر و تحمل ، اشتعال انگیزی پر اعتراض ، داخلی اصلاح و تعمیر کی باتیں لکھنے اور بولنے میں مصروف ہیں ۔ خواہ وہ الرسالہ کا نام نہ لیں مگر ان میں سے ہر ایک بلا اعلان الرسالہ کا نمائندہ بنا ہوا ہے ۔ ہر ایک الرسالہ کی عملی ایجنسی لیے ہوئے ہے ۔ حتیٰ کہ مسلم عوام بھی اب عملاً الرسالہ کی پالیسی پر آچکے ہیں ۔ اس کی ایک مثال بابری مسجد کا مسئلہ ہے ۔ الرسالہ میں کہا گیا تھا کہ مسلمان بابری مسجد کے اشو پر چپ ہو جائیں ۔ آج آپ دیکھئے کہ سارے مسلمان اس اشو پر عملاً چپ ہیں ۔ احتجاج اور مظاہرہ کی پہلے والی پالیسی کو وہ اب چھوڑ چکے ہیں ۔ چند پروفیشنل لیڈروں کے سوا کسی کو بھی اب اس سے دل چسپی نہیں ۔ ہندوؤں کے سلسلہ میں اس بریک تھرو کا پہلو یہ ہے کہ جدید تاریخ میں پہلی بار ہندوؤں کے درمیان نفوذ حاصل ہوا ۔ حالیہ مہینوں میں آپ الرسالہ کے خبر نامے پڑھے تو آپ دیکھیں گے کہ پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ کسی مسلم عالم کو ہندو اپنے جلسوں میں بلا رہے ہیں ۔ ہندو اخبارات اور نیشنل پریس میں مسلسل اس کی چیزیں چھپ رہی ہیں ۔ تعصب کی فضا سے نکل کر وہ کسی مسلمان عالم کی باتیں سن رہے ہیں ۔ ۲۱ نومبر کی صبح کو میں جسٹس قاضی کی رہائش گاہ پر تھا۔ ان سے مختلف دینی و ملی موضوعات پر گفتگو ہو رہی تھی ۔ اتنے میں صبح کے اخبارات آگئے ۔ انقلاب (۲۱ نومبر) کے صفحہ اول پر بمبئی کی ڈیٹ لائن (۲۰ نومبر) کے ساتھ ایک خبر تھی ۔ اس کی سرخی یہ تھی : بابری مسجد کی دوبارہ تعمیر کے لیے ۳ دسمبر کو یوم دعا منانے کا اعلان ۔ اس سرخی کے نیچے حسب ذیل خبر چھپی ہوئی تھی : ”آج یہاں آل انڈیا مسلم پرسنل بورڈ نے ہندوستان بھر کے مسلمانوں سے کہا ہے کہ وہ ۳ دسمبر کو یوم دعا منائیں ۔ اور نماز جمعہ کے بعد اجتماعی طور پر خدائے تعالیٰ سے دعا مانگیں ۔ مذکورہ بورڈ کی جانب سے جاری کردہ ایک اخباری بیان میں کہا گیا ہے کہ مسلم پرسنل لابورڈ اپنے اس فیصلے سے حکومت ہند کو واقف کرانا چاہتا ہے کہ ۶ دسمبر کو اجودھیا میں بابری مسجد کی شہادت کے فوراً بعد وزیر اعظم نرسمہا راؤ نے بابری مسجد کی دوبارہ تعمیر کا وعدہ کیا تھا لیکن حکومت نے آج تک اس وعدہ کو وفا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader