بمبئی کا سفر
Urdu book, p. 298
By Maulana Wahiduddin Khan
نہیں کیا۔ حکومت کے اس وعدہ خلافی سے ہندوستان کے مسلمان سخت قسم کی ذہنی اذیت میں مبتلا ہیں۔ انقلاب کی یہ خبر جس وقت میں نے پڑھی، ایک مسلمان میرے پاس موجود تھے جو پرسنل لاء بورڈ سے بڑی بڑی امیدیں قائم کیے ہوئے ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ اس”اعلان“ میں کہا گیا ہے کہ بابری مسجد کے دوبارہ سابقہ مقام پر تعمیر نہ ہونے سے مسلمانانِ ہند سخت ذہنی اذیت میں مبتلا ہیں۔ یہ الفاظ بالکل بے بنیاد ہیں اور اس کا ثبوت خود اس اعلان میں موجود ہے۔ سوال یہ ہے کہ بابری مسجد تو ۶ دسمبر کو ڈھائی گئی تھی۔ ۶ دسمبر ہی کو آپ لوگ دہلی میں وزیرِاعظم سے ملنے والے ہیں۔ پھر یہ ملک گیر یومِ دعا ۳ دسمبر کو کیوں۔ اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ آپ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ عام مسلمان اب بابری مسجد کی تعمیر نو میں دل چسپی نہیں رکھتے۔ اس لیے وہ صرف اس کے لیے ۶ دسمبر کو مسجدوں میں جمع بھی نہیں ہوں گے۔ اس بنا پر آپ لوگوں نے ۳ دسمبر کا دن منتخب کیا جو کہ جمعہ کا دن ہے اور جمعہ کی وجہ سے ہر مقام کے مسلمان خود بخود اس دن مسجدوں میں اکٹھا ہوں گے۔ اس موقع پر آپ اعلان کرکے ظاہر کریں گے کہ سارے ملک کے مسلمانوں نے لاکھوں مسجدوں میں بابری مسجد کی تعمیرِ نو کے لیے دعا کی۔ اگر فی الواقع مسلمانانِ ہند اس سلسلہ میں سخت ذہنی اذیت میں مبتلا ہوتے تو یقیناً ۶ دسمبر کو ملک کی تمام مسجدوں میں جمع ہوتے۔ یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ مسلمانانِ ہند کا نمائندہ نہیں۔ وہ کچھ افراد کا ایک گروہ ہے نہ کہ سارے مسلمانوں کا نمائندہ بورڈ۔ جسٹس قاضی کی رہائش گاہ پر ایک مفید مجلس رہی۔ اس میں جسٹس متاقی، پروفیسر جاوید خاں (363609 :Tel) مسٹر اختر حسن رضوی (6423071 :Tel) اور مسٹر فاروق فیصل موجود تھے۔ میں نے الرسالہ مشن کے بارے میں کچھ وضاحت کی۔ یہ لوگ پہلے سے الرسالہ مشن سے واقف تھے۔ مسٹر اختر حسن رضوی نے ایک بات کہی جو مجھے پسند آئی۔ وہ ان کے اپنے الفاظ میں یہ تھی: دوستی اور دشمنی کے بیچ ایک دیوار ہے۔ یا تو ہاتھ بڑھا کر دوسرے کو اپنی طرف کھینچ لیجیے اور اس کو دوست بنا لیجیے۔ یا دھکا دے کر اس کو دشمنی کی طرف دھکیل دیجیے۔ پروفیسر جاوید خاں نے میری اس بات کو بہت پسند کیا کہ زندگی نام ہے تھرڈ آپشن کو تلاش کرنے کا۔ میں نے کہا کہ موجودہ زمانہ میں ہمارا دانشور طبقہ ثنائی طرزِ فکر (dichotomous thinking)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader