بمبئی کا سفر
Urdu book, p. 299
By Maulana Wahiduddin Khan
کا شکار ہو گیا ہے اور یہی تمام مسائل کی جڑ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملہ میں لوگوں کو باشعور بنانے کے لیے ہمیں ایک مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ جسٹس قاضی کے ایک سوال کے جواب میں میں نے ان سے کہا: "عام خیال یہ ہے کہ مسلمانوں کا اصل مسئلہ فقدان قبولیت قیادت ہے۔ قرآن اور حدیث کی بنیاد پر میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ خدا کبھی کسی گروہ کو قائد سے محروم نہیں کرتا۔ کسی گروہ کے لیے جو چیز محرومی کا سبب بنتی ہے وہ قائد کی غیر موجودگی نہیں ہے بلکہ خود گروہ کے اندر قبولیت قائد کی غیر موجودگی ہے۔ جسٹس قاضی کا حافظہ بہت اچھا ہے۔ گفتگو کے دوران اکثر وہ دوسروں کے اشعار یا اقوال سناتے رہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ اللہ نے آپ کو یہ عجیب ملکہ دیا ہے کہ آپ کو کوئی نہ کوئی بر محل حوالہ یاد آجاتا ہے۔ اس پر انہوں نے دوبارہ ایمرسن کا یہ قول سنایا : Next to the originator of a good sentence is the quoter of it. —Emerson ۲۱ نومبر کو مسٹر پر تاب بھائی بھوگی لال سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات ہوئی۔ وہ آنجہانی بھوگی لال جو ہری کے صاحبزادے ہیں۔ ان کے والد اپنی جرات مندی کے لیے مشہور تھے۔ پورا خاندان نہایت محب وطن اور بے تعصب ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم لوگ دیش کو ترقی کرتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔ مگر ایسا لگتا ہے کہ ہماری زندگی میں تو ایسا ہونے والا نہیں۔ میں نے کہا کہ آپ جیسا درد رکھنے والے ملک میں بہت ہیں۔ بلکہ وہ مجاریٹی میں ہیں۔ مگر ان کے درمیان تال میل نہیں ہے۔ یہ لوگ اگر مل کر جوائنٹ ایفرٹ کریں تو یقیناً مثبت نتیجہ نکل سکتا ہے۔ اس کے بعد مسٹر مدھو مہتا کے ساتھ ہم دونوں مسٹر رام کشن بجاج (پیدائش ۱۹۲۳) کی رہائش گاہ پر گئے ۔ لفٹ کے ذریعہ تیرھویں منزل پر پہنچے۔ یہ سمندر کے کنارے ایک بہت بڑا مکان تھا۔ مگر مسٹر بجاج بیماری کی وجہ سے بالکل نڈھال اس کے ایک گوشہ میں پڑے ہوئے تھے۔ تاہم گفتگو سے اندازہ ہوا کہ وہ نہایت ذہین اور سمجھ دار آدمی ہیں۔ یہ مشہور صنعت کار جمنا لال بجاج کے لڑکے ہیں۔ نو جوانی کی عمر میں عرصہ تک گاندھی جی کے ساتھ رہے ہیں۔ سیو اگرام کی وسیع زمین ان کے والد ہی نے گاندھی جی کو دی تھی۔ اس کے علاوہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader