Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 300

By Maulana Wahiduddin Khan

انھوں نے تحریک آزادی کے دوران گاندھی جی کی بہت مدد کی تھی۔ مسٹر کرشن لال بجاج نے گاندھی جی کے کئی ذاتی واقعے بتائے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ یہ بتائیے کہ مہاتما گاندھی کے برطانیہ کا راز کیا تھا۔ انھوں نے جواب دیا : گاندھی جی کی بڑائی کا راز یہ تھا کہ وہ اپنے کو بڑا سمجھتے ہی نہیں تھے۔ ان سے بات کرتے ہوئے ہم لوگوں کو کبھی ایسا نہیں لگتا تھا کہ ہم کسی مہاتما سے بات کر رہے ہیں۔ ۲۱ نومبر کی صبح کو ٹائمس آف انڈیا کے نما ئندہ مسٹر سری نواس لکشمن (2618923 :Tel) نے تفصیلی انٹرویو لیا۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر مسلمانان ہند کے موجودہ مسائل سے تھا۔ یہ انٹرویو ۲۲ نومبر کو ٹائمس آف انڈیا کے بمبئی ایڈیشن اور دہلی ایڈیشن دونوں میں شائع ہو چکا ہے۔ بمبئی کے ایک مسلمان ملاقات کے لیے آئے ۔ گفتگو کے دوران ان سے میں نے پوچھا کہ آپ کا ڈرائیور مسلمان ہے یا ہندو ۔ انھوں نے کہا کہ ہندو ۔ میں نے پوچھا کہ کتنے عرصہ سے وہ آپ کے یہاں کام کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ چھ سال سے۔ میں نے پوچھا کہ آپ نے اس کو کیسا پایا۔ انھوں نے کہا کہ : (excellent) میں نے کہا کہ آپ جس مسلمان سے پوچھے ذاتی تعلق والے ہندوؤں کے بارہ میں وہ ایسی ہی راے دے گا۔ مگر انہیں مسلمانوں سے جب فرقہ وارانہ مسائل پر بات ہوتی ہے تو ہر مسلمان فورا ہندو کی برائی کرنے لگتا ہے۔ اس کی وجہ صرف بے شعوری ہے۔ اصل یہ ہے کہ ذاتی تعلق والے ہندو کا ذکر ہو تو مسلمان کے سامنے ہندو کی انفرادی تصویر (individual picture) ہوتی ہے۔ مگر جب گفتگو فرقہ وارانہ اعتبار سے ہو تو مسلمان کے سامنے ہندو کی مجموعی تصویر (collective picture) آجاتی ہے۔ پہلی صورت میں اس کے سامنے ایک اچھا ہندو ہوتا ہے۔ دوسری صورت میں وہ چند برے ہندوؤں کو جنرلائز کر دیتا ہے۔ کیونکہ وہ بھی ہندو فرقہ میں شامل ہیں ۔ اس بنا پر پہلی شکل میں ہندو کے بارہ میں اس کی راے اچھی ہوتی ہے اور دوسری شکل میں اس کی راے ہندو کے بارہ میں خراب بن جاتی ہے۔ یہ جنرلائزیشن ہلاکٹ خیز حد تک غلط ہے۔ ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ قرآن کو سمجھنے کے لیے ایک اہم بات یہ ہے کہ قرآن اکثر وقتی ریفرنس میں ابدی بات کہتا ہے۔ مثلاً مدینہ کے ایک خاندانی نزاع کے سلسلہ میں یہ آیت آئی ہے کہ الصلح خير (صلح بہتر ہے) ابتدائی نزول کے اعتبار سے یہ ایک وقتی ریفرنس ہے۔ مگر وسیع تر انطباق کے اعتبار سے وہ ایک ابدی تعلیم ہے۔ قرآن کو سمجھنے کے لیے یہ نکتہ جاننا ضروری ہے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page