Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 301

By Maulana Wahiduddin Khan

بمبئی کے زمانہ قیام میں جسٹس قاضی سے کافی باتیں ہوئیں ۔ وہ الرسالہ کے قاری بھی ہیں ۔ انھوں نے کہا مجھے آپ کے خیالات سے مکمل اتفاق ہے ۔ مگر شعر کی زبان میں میں کہوں گا : ذرا آہستہ لے چل کاروانِ کیف و دستی کو کہ سطح ذہن عالم سخت نا ہموار ہے ساقی ایک صاحب نے کہا کہ دوسرے علماء تو بابری مسجد کے سلسلہ میں حکومت سے یہ مانگ کر رہے ہیں کہ مسجد دوبارہ عین اسی مقام پر بناؤ۔ اور آپ مسلمانوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ بابری مسجد کو بھلا دیں۔ آخر آپ مسلمانوں کو پسپائی کا سبق کیوں دے رہے ہیں ۔ میں نے کہا کہ یہ پسپائی نہیں ہے بلکہ حقیقت پسندی ہے۔ جو حضرات " مسجد وہیں بناؤ" کا مطالبہ کر رہے ہیں ، آپ ان کے ٹاپ کے افراد کو لیجئے اور ان کے سر پر قرآن رکھ کر پوچھئے کہ کیا آپ کو یقین ہے کہ آپ کی اس مانگ سے مسجد دوبارہ اسی مقام پر بنا دی جائے گی۔ میں پورے اعتماد سے کہتا ہوں کہ ان میں سے کوئی بھی شخص قرآن ہاتھ میں لے کر یہ نہیں کہہ سکتا۔ کیوں کہ یہ حضرات اچھی طرح جانتے ہیں کہ اب مسجد دوبارہ وہاں بننے والی نہیں ۔ ایسی حالت میں عقل کی بات کیا ہے ۔ کیا یہ عقل مندی ہوگی کہ آپ مسلمانوں کے ذہن کو ایک ایسی چیز پر اٹکائے رکھیں جس کا وقوع میں آنا ممکن ہی نہیں ۔ اگر آپ ٹھنڈے ذہن کے ساتھ سوچیں تو آپ مانیں گے کہ ملت کا ذہن ناممکن پر اٹکانے کا نام عداوت ہے ، اس کا نام قیادت اور رہنمائی نہیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ آپ کشمیریوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ ہندوستانی حکومت سے نہ ٹکرائیں ۔ بلکہ ہندوستان کی سیاسی بالادستی کے تحت انھیں جو مواقع ملے ہوئے ہیں ان کو استعمال کرتے ہوئے ترقی کی راہیں تلاش کریں۔ اسی قسم کا مشورہ آپ ہر جگہ کے مسلمانوں کو دیتے رہے ہیں۔ مگر اس کا مطلب تو یہ ہے کہ آپ مسلمانوں کو (status quoist) بنا دینا چاہتے ہیں۔ یعنی وہ حالتِ موجودہ پر دوتانع رہیں۔ زیادہ بہتر کی طرف کوئی اقدام نہ کریں۔ میں نے کہا کہ یہ (status quoism) کی دعوت نہیں ہے ۔ یہ دراصل نقطہ آغاز (collective picture) حاصل کرنے کی بات ہے۔ زندگی میں اصل مسئلہ نقطہ آغاز پانے کا ہوتا ہے۔ اگر آپ صحیح نقطہ آغاز پالیں تو عمل کرتے ہوئے آخر کار آپ اعلیٰ منزل پر پہنچ جاتے ہیں۔ لیکن اگر آپ نقطہ آغاز کے بجائے نقطہ اختتام سے اپنا سفر شروع کرنا چاہیں تو صدیوں کی قربانی کے بعد بھی آپ کہیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page