Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 302

By Maulana Wahiduddin Khan

نہیں پہنچیں گے ۔ ایک صاحب نے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور آل انڈیا ملی کونسل کے خلاف ہیں۔ یہ لوگ تو ملت کی مظلومی کو دور کرنے کے لیے اٹھے ہیں، پھر ان کی مخالفت کس لیے۔ میں نے کہا کہ مسئلہ بورڈ اور کونسل کا نہیں ہے بلکہ نوعیت بورڈ اور نوعیت کونسل کا ہے۔ اسلام میں کسی چیز کی قدر و قیمت اس کے نام سے متعین نہیں ہوتی بلکہ اس کی نوعیت سے متعین ہوتی ہے۔ مدینہ میں کچھ لوگوں نے ایک مسجد بنائی۔ بظاہر اس کا نام مسجد تھا۔ مگر اپنی نوعیت کے اعتبار سے وہ ضرار تھی ، اس لیے اس کو ڈھادیا گیا ۔ اس بورڈ اور کونسل میں عہدے داروں سے لے کر ممبروں تک تقریباً دو سو آدمی ہوں گے۔ آپ ان لوگوں کا جائزہ لیں تو آپ بلا استثنا یہ پائیں گے کہ ان میں سے ہر شخص کے ادارہ میں یا خاندان میں یا آس پاس کوئی فرد مظلومی کا شکار ہوگا۔ مگر یہ لوگ اس فرد کی مظلومی کو دور کرنے کے لیے کچھ نہیں کریں گے۔ مگر یہی لوگ ملت کی مظلومی کو دور کرنے کے لیے مجاہد اعظم بنے ہوئے ہیں ۔ اس کار از کیا ہے کہ ان حضرات کو فرد ملت کی مظلومی سے کوئی دل چسپی نہیں۔ لیکن یہی لوگ مجموعۂ ملت کی مظلومی کے لیے صبح و شام تقریر و تحریر کا طوفان برپا کیے ہوئے ہیں۔ اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ فرد ملت کی مظلومی میں پڑنے سے لیڈری نہیں ملتی۔ جب کہ مجموعۂ ملت کے نام پر اٹھنے سے لیڈری، شہرت، پیسہ، بڑا پائی ہر چیز وافر مقدار میں حاصل ہوتی ہے۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ اس قسم کی تحریکوں سے لیڈر کو زبر دست فائدے حاصل ہو رہے ہیں مگر ملت بدستور محرومی اور مظلومی کے گہرے غار میں پڑی ہوئی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ انفرادی مظلوم کی دستگیری سے آپ کی مراد کیا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ کو میں اس کی مثال دیتا ہوں۔ ابھی بمبئی آنے سے پہلے دہلی میں میری ملاقات ایک صاحب سے ہوئی ۔ ان کا نام پتہ یہ ہے : Shri Mohan Lal 1786/131, Shanti Nagar, Tri Nagar, Delhi-110052 (Tel: 7226034) شری موہن لال (۶۵ سال) کو میں کئی سال سے جانتا ہوں۔ ان کا کہنا ہے کہ ظالم کے پنجرہ سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page