بمبئی کا سفر
Urdu book, p. 307
By Maulana Wahiduddin Khan
حتیٰ کہ متشددانہ تحریکوں کا اڈہ بنا دیتے ہیں۔ یہ اللہ کی مسجدوں کا غلط استعمال ہے۔ اس غلط استعمال سے مسلم آبادیوں کو مسجد کے حقیقی دینی فائدے سے محروم کر دیا ہے۔ عصر اور عشاء کے درمیان محمد اقبال الدین صاحب کے مکان پر نشست ہوئی، کالونی کے بہت سے لوگ یہاں جمع ہوئے ۔ ان سے دینی اور ملی موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی۔ ایک صاحب نے سوال کیا کہ آپ صلح حدیبیہ پر بہت زور دیتے ہیں۔ صلح حدیبیہ تو خدا کے حکم سے تھی جس کی حکمت اس وقت صحابہ کی سمجھ میں بھی نہیں آئی۔ پھر آج کل کے مسلمان کس طرح اس کو سمجھیں گے۔ میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ کیا وہ سب خدا کے حکم ہی سے تھا مگر اسی کے ساتھ قرآن میں یہ بھی کہا گیا کہ رسول تمہارے لیے نمونہ ہیں تم ان کے نمونہ کو اپنی زندگیوں میں اختیار کرو۔ دوسری بات یہ ہے کہ آپ جانتے ہیں کہ ایک چیز ہے ایجاد (invention) دوسری چیز ہے تقلید (imitation)۔ ایجاد ہمیشہ مشکل ہوتی ہے۔ اور تقلید ہمیشہ آسان ہوتی ہے۔ رسول اللہ کے زمانہ میں صلح حدیبیہ کا معاملہ پہلی بار پیش آیا تھا اس لیے لوگوں کے لیے اس کی حکمت کو سمجھنا دشوار ہو گیا۔ مگر اب تو وہ ایک معلوم اصول بن گیا اور اس کی پشت پر تاریخ کا کامیاب تجربہ جمع ہو چکا۔ اس لیے اب اس کو سمجھنا کچھ بھی مشکل نہیں۔ الّا یہ کہ آدمی ہٹ دھرمی کی بنا پر سمجھنا ہی نہ چاہے۔ عشاء کی نماز کے بعد جناب جمشید علی سید (458771 .Tel) کی رہائش گاہ پر ایک اجتماع ہوا۔ تعلیم یافتہ افراد اور الرسالہ کے قاری اس میں شریک ہوئے۔ میں نے کسی قدر تفصیل کے ساتھ الرسالہ مشن اور موجودہ حالات میں اسلام کا طریق کار کے موضوع پر خطاب کیا۔ اس کے بعد سوال و جواب کی صورت میں گفتگو دیر تک جاری رہی۔ عام طور پر لوگوں نے الرسالہ کے نقطہ نظر سے اتفاق کیا۔ جناب خلیل زاہدی صاحب نے میری ایک بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک واقعہ ہے کہ ہر مسلمان ہندوؤں سے ذاتی تعلق میں اعراض اور ہم آہنگی کے اصول ہی پر عمل کرتا ہے مگر جب ملت کے پلیٹ فارم سے بولنا ہو تو وہ ٹکراؤ کی زبان بولنے لگتا ہے۔ اس دو عملی کو ختم کرنا بہت ضروری ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader