Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 308

By Maulana Wahiduddin Khan

حاجی مستان مرزا (۷۶ سال) بھی اس مجلس میں موجود تھے۔ ان سے میں نے پوچھا کہ آپ نے بہت تجرباتی زندگی گزاری ہے۔ یہ بتائیے کہ مخالف کو جیتنے کا طریقہ کیا ہے۔ انھوں نے جواب دیا : محبت اپنایہ ۔ اگر آپ اپنے مخالف سے محبت کا سلوک کریں گے تو وہ بھی آپ ہی کی بولی بولنے لگے گا۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ بقیہ علماء سے میرا کوئی اختلاف نہیں۔ ان کے دل میں جو کچھ ہے اگر وہ وہی کرنے لگیں تو ان سے میرا اختلاف اپنے آپ ختم ہو جائے ۔ حاجی مستان صاحب نے اس کو سن کر کہا :" پھر علماء دین کے جو دل میں ہے وہ اس کو اپنی زبان سے کہہ دیں۔ تمام علماء دین ایک اسٹیج پر آکر اپنے دل کی بات تمام اہل اسلام کو بتا دیں " جمشید سید صاحب سے میں نے پوچھا کہ آپ بزنس کرتے ہیں۔ بتائیے کہ بزنس میں کامیابی کا راز کیا ہے۔ انھوں نے کچھ دیر سوچنے کے بعد جواب دیا : کنٹرول ورسی سے بچنا اور اگر کوئی اختلاف پیدا ہو جائے تو میز پر بیٹھ کر اس کو طے کر لینا ۔ میں نے کہا کہ یہی اصول جو ہر آدمی اپنی ذاتی زندگی میں اختیار کیے ہوئے ہے ، اسی کو ہم کہتے ہیں کہ ملی معاملات میں بھی اختیار کر لو تو لوگ فوراً کہنے لگتے ہیں کہ الرسالہ بزنس دلی سکھاتا ہے۔ آخر لوگوں کی زندگی میں یہ دو عملی کیوں ہے ۔ یہی دو عملی کا نام اسلام ہے۔ ۲۲ نومبر کی صبح کو بمبئی سے دہلی کے لیے واپسی ہوئی۔ بمبئی کی سڑکوں سے گزرتے ہوئے خیال آیا کہ یہ شہر کبھی عروس البلاد کہا جاتا تھا۔ مگر آج وہ بھیڑ ، گندگی اور ہوائی کثافت کا شہر بن چکا ہے۔ پانی کی نکاس کا نظام بھی خراب ہوتا جا رہا ہے۔ یہی حال رہا تو چند سال میں بمبئی کا شہری ماحول شدید نا قابل برداشت ہو جائے ۔ یہ مسائل کم و بیش ساری دنیا میں ہیں۔ چنانچہ شہری صفائی کے موضوع پر بڑی بڑی تحریکیں چلائی جا رہی ہیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ مگر مسلمان ان تحریکوں میں موجود نہیں۔ ساری دنیا کے مسلمان اپنے خلاف ظلم اور سازش کے نام پر فریاد کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ کسی کو فرصت نہیں کہ حدیث کے مطابق ، وہ النظافة من الایمان کا پیغام دینے کے لیے اٹھیں۔ بمبئی ایر پورٹ پر میں انتظار گاہ میں بیٹھا ہوا تھا۔ ایک صاحب میرے قریب آئے "آپ ہی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page