Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 310

By Maulana Wahiduddin Khan

قابل عبور رکاوٹ سمجھ کر اس تدبیر کے ذریعہ اپنے راستہ سے ہٹانا ہے یہی اصول انڈیا کے لیے بھی ہے اور یہی اصول دوسرے تمام ملکوں کے لیے بھی۔ محمد عثمان صاحب شمسی (۴۴ سال) نے اپنے کئی تجربات بتائے۔ انھوں نے ایک دلچسپ مثال دی۔ انھوں نے کہا کہ جانور دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک مثلاً نیولا ، دوسرا مثلاً بچھو۔ بچھو گھر میں آجائے تو اس کو ہم مارتے ہیں۔ لیکن اگر نیولا ہو تو اس کو صرف بھگانے پر اکتفا کرتے ہیں۔ اسی طرح ہمیں انسانوں کو پہچانا چاہیے ۔ کوئی شخص فی الواقع سانپ اور بچھو کی مانند ہو تو اس کے خاتمہ کی بات سوچی جاسکتی ہے۔ مگر نیولا جیسے کو صرف بھگانا ہی کافی ہے۔ ممبئی سے انڈین لائنز کی فلائٹ ۱۸۵ کے ذریعہ واپسی ہوئی۔ حسب معمول کسی قدر تاخیر کے ساتھ جہاز روانہ ہوا۔ راستہ میں جہاز کے اندر کچھ اخبارات پڑھے۔ نیشنل ہیرالڈ (۲۲ نومبر ۱۹۹۳) میں ایک روسی سیاح کی خودکشی کی خبر تھی جس کا عنوان تھا : Fatal leap by Russian tourist. اس میں بتایا گیا تھا کہ ایک ۴۲ سالہ روسی سیاح ولادیمیر (Vladimir V. Baiderin) نئی دہلی کے کنشکاہ ہوٹل میں بارھویں منزل پر کمرہ نمبر ۱۲۱۰ میں ٹھہرا ہوا تھا۔ ۲۱ نومبر کو وہ اپنے کمرہ کی کھڑکی سے کود پڑا۔ زمین پر آتے ہی اس کا سر پھٹ گیا۔ ہڈیاں ٹوٹ گئیں۔ وہ فوراً ہی مرگیا۔ ولادیمیر روزانہ لفٹ سے نیچے اترتا تھا۔ لفٹ اس کو محفوظ طور پر اس کی منزل تک پہنچادیتی تھی۔ مگر جب اس نے کھڑکی کے راستہ سے چھلانگ لگائی تو اس کا انجام یہ ہوا کہ منزل پر پہنچنے کے بجائے وہ قبرستان میں پہنچ گیا۔ موجودہ زمانہ میں کشمیر سے لے کر بوسنیا تک بہت سے پرجوش مسلمان اسی قسم کی چھلانگ لگا رہے ہیں اور اپنی ہلاکت کو دعوت دے رہے ہیں۔ اگر وہ " زینہ " کو استعمال کرتے ہوئے اپنا سفر شروع کرتے تو شاید آج وہ اپنی منزل پر پہنچ چکے ہوتے۔ مگر جب انھوں نے زینہ کے فطری طریقہ کو چھوڑ کر چھلانگ کا غیر فطری طریقہ اختیار کیا تو وہ ان کے لیے خودکشی کے ہم معنی بن گیا۔ ۲۲ نومبر ۱۹۹۳ کی دوپہر کو ہمارا جہاز دہلی کے ہوائی اڈہ پر اتر گیا۔ بمبئی میں جہاز کے اناونسر نے اعلان کیا تھا کہ " باہر کا तापमान ۳۳ ڈگری سلسیس ہے " دہلی میں اعلان کیا گیا کہ مسافروں کی جانکاری کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page