پونہ کا سفر
Urdu book, p. 33
By Maulana Wahiduddin Khan
جس کی شاخیں امریکہ، برطانیہ اور ہندوستان میں ہیں۔ یہ کتاب آج پوری دنیا میں بڑے پیمانے پر فروخت ہو رہی ہے اور اللہ اور اس کے رسول کا کرم ہے کہ اس کتاب کا خود پنگوئن والوں پر اتنا زبردست اثر ہوا کہ انہوں نے معاہدہ کے باوجود رشدی کی کتاب کا پیپر بیک ایڈیشن نکالنے سے انکار کر دیا (نئی دنیا ۳ اپریل ۱۹۹۲) اس سے مثبت اندازِ کار کی غیر معمولی اثر انگیزی کا اندازہ ہوتا ہے۔ مذکورہ مثال کے مطابق سلمان رشدی کی بیہودہ کتاب کے جواب میں اسلام پر ایک صبح تعارف کتاب تیار کی گئی۔ اس کتاب کو ’’شیطانی آیات‘‘ کے پبلشر ہی نے اپنے یہاں سے شائع کیا اور پھر ہر جگہ اس کو پڑھا جانے لگا۔ مزید یہ کہ خود پبلشر پر اس کا اثر یہ ہوا کہ وہ شیطانی آیات کی مزید اشاعت سے باز آگیا۔ حقیقت یہ ہے کہ مثبت طریق کار میں معجزاتی تاثیر چھپی ہوئی ہے، بشرطیکہ اس کو صحیح طور پر استعمال کیا جائے۔ "گاڈ ارائزرز" کا ترجمہ مراٹھی زبان میں ایک ہندو پروفیسر نے کیا ہے۔ اس سلسلہ میں فاروق فیصل صاحب نے بتایا کہ یہ ترجمہ اب بمبئی میں جی ایم صدیقی صاحب کے پاس پہنچ چکا ہے۔ توقع ہے کہ انشاء اللہ وہ جلد ہی شائع ہو سکے گا۔ سفر سے واپسی کے بعد بمبئی سے کچھ لوگوں کے خطوط موصول ہوئے۔ جناب محمد حسین ٹائرے (6115718 .Tel) لکھتے ہیں: الحمد للہ بندہ آپ کے بمبئی کے پروگرام میں حاضر تھا۔ اور آپ کی تقریر سے بے حد متاثر ہوا۔ اللہ آپ کی عمر دراز کرے۔ اور اسی طرح امت مسلمہ آپ کی کاوشوں سے بہرہ ور ہو، آمین۔ جناب محمد افضل لادی والا (کرلا) اپنے خط میں لکھتے ہیں: بمبئی میں آپ کا پروگرام الحمد للہ بے حد کامیاب رہا۔ اللہ رب العزت کے کروڑوں احسانات ہیں کہ سارے پروگرام حسب منشا خوب سے خوب تر رہے۔ لوگوں کے دماغ ہی نہیں روح تک کو آپ نے جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ کئی لوگ ایسے بھی آئے کہ ہم کو مہد لانا کا پروگرام رکھنا ہے۔ مگر وقت کی کمی کے سبب یہ ممکن نہ تھا۔ انشا اللہ آپ کے اگلے دورہ میں اس سے بہتر یہ پروگرام رکھیں گے۔ آئندہ آپ کو کم از کم دس روز بمبئی کے لئے دینا ہوگا۔ آپ کے ساتھ بمبئی میں سہ روزہ پروگرام کے دوران جو وقت گزرا وہ مجموعی طور پر زندگی کا بہترین وقت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader