Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 333

By Maulana Wahiduddin Khan

عقیدہ ہو، بہر حال میں آپ ہند و ازم کے وسیع دائرہ میں شامل رہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ اس کا نام فریڈم نہیں ہے۔ یہ تو ایک قسم کی مذہبی انارکی ہے۔ گیان یا معرفت لازمی طور پر تعین چاہتے ہیں۔ اگر تعین نہ ہو تو گیان اور اگیان میں کوئی فرق ہی باقی نہ رہے گا۔ جس چیز کو آپ فریڈم کہہ رہے ہیں اس سے تو صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ حقیقتِ اعلیٰ کو ابھی تک دریافت ہی نہ کر سکے۔ سوامی جی نے دوبارہ اپنی بات کی تائید میں مثالیں پیش کرنا شروع کیا۔ چنانچہ مجھ کو پھر معافی مانگتے ہوئے یہ کہنا پڑا کہ مثالوں سے کوئی بات ثابت نہیں ہوتی۔ آخر میں انھوں نے رسالہ دینیات (انگریزی) سے ایک اقتباس پڑھ کر سنایا جو ان کے نزدیک ان کے نقطہ نظر کے حق میں ایک حتمی دلیل تھا۔ یہ اقتباس کتاب کے اردو ایڈیشن میں "نبوت محمدی کا ثبوت" کے زیر عنوان دیکھا جا سکتا ہے۔ سوامی جی نے کہا کہ دیکھیے! یہاں مصنف خود کہہ رہے ہیں کہ پیغمبر اسلام ایک ان پڑھ آدمی تھے۔ وہ جس سماج میں پیدا ہوئے وہاں تعلیم اور تہذیب موجود نہ تھی۔ لوگ وحشیانہ کاموں میں مبتلا تھے، جہالت اور لاقانونیت عام تھی۔ پھر ایسے ماحول میں پیدا ہونے والا آدمی کس طرح کوئی اونچا گیان حاصل کر سکتا ہے۔ انھوں نے جوش کے ساتھ کہا کہ ذرا آپ دیکھیے! مصنف کے بیان میں کتنا بڑا تضاد (contradiction) ہے کہ جس آدمی کو وہ خود ان پڑھ اور وحشی سماج کی پیداوار بتاتے ہیں، اسی کو ہمیشہ کے لیے ساری دنیا کا پرافت مان رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ کتاب میں نے پڑھی ہے۔ مصنف نے مذکورہ باب میں جو بات کہی ہے وہ پیغمبر کے حق میں بطور استدلال ہے اور آپ اس کو اس معنی میں لے رہے ہیں کہ پیغمبر کی شخصیت کس طرح بنی۔ سوامی جی دوبارہ تھوڑی دیر تک انگریزی میں کچھ بات بولے۔ میں نے نرمی سے یاد دلایا کہ سوامی آپ کی یہ بات اصل بحث سے متعلق (relevant) نہیں ہے۔ آخر میں وہ کار کی سیٹ پر بیٹھ ٹھیک کر سیدھے بیٹھ گئے اور اپنی آنکھیں بند کرتے ہوئے کہا : صبح کے وقت میں زیادہ بولنے کا عادی نہیں ہوں، آج صبح میں نے اشنان بھی نہیں کیا، اس لیے میرے سر میں ہلکا درد بھی ہے۔ اس کے بعد ہم دونوں خاموش ہو گئے۔ پنڈت راجیو اگنی ہوتری نے کہا کہ اسلام کی کوئی وحشیانہ بات بتائیے۔ میں نے قرآن کی ایک آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ برے سلوک کے جواب میں اچھا سلوک کرو۔ اس کے بعد جو تمہارا دشمن ہے وہ بھی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page