Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 334

By Maulana Wahiduddin Khan

تمہارا دوست بن جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر آدمی آپ کا امکانی دوست ہے۔ نفرت اور دشمنی یہ سب اوپری چیزیں ہیں۔ اوپر سے کوئی غیر انسان دکھائی دے رہا ہو تب بھی اندر سے وہ انسان ہی ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ پہلے زمانہ میں دھرم کا پرچار بہت کم تھا۔ اتنے ست سنگ نہیں ہوتے تھے۔ پھر بھی شانتی تھی۔ اب ہر طرف دھرم کا پرچار ہے۔ ہر جگہ ست سنگ کی دھوم ہے۔ مگر شانتی غائب ہے۔ یہ سوال میں نے کئی لوگوں سے کیا مگر ابھی تک مجھے اتر نہیں ملا۔ میں نے پوچھا کہ آپ کا اپنا خیال کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میرے من میں ایک اتر ہے، اور وہ یہ کہ پہلے کہنی اور کرنی ایک تھی ۔ اب کہنی اور کرنی میں مدت بید ہو گیا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ صحیح کہہ رہے ہیں۔ آج مذہب کے نام پر بہت سرگرمیاں دکھائی دیتی ہیں مگر یہ دیسی ہی ہیں جیسے دوسری تجارتی سرگرمیاں۔ موجودہ زمانہ کے نئے حالات نے مذہب میں دنیوی انٹرسٹ کا پہلو بہت زیادہ بڑھا دیا ہے۔ آج مذہب میں پیسہ بھی ہے۔ لیڈری اور عہدہ بھی۔ عزت اور شہرت بھی ہے۔ دنیا کی سیر بھی ہے۔ چنانچہ لوگوں نے مذہب کے نام پر بھی وہی کچھ حاصل کرنا شروع کر دیا ہے جس کو پہلے زیادہ تر دنیا کے نام پر حاصل کیا جاتا تھا۔ دہلی پہنچ کر ہماری گاڑی پہلے پر مارتھ نکیتن آشرم (گرین پارک) میں رکی۔ یہاں ڈاکٹر کے ایل سیتاگری راؤ عارضی طور پر مقیم تھے۔ وہ ایم یو کے ورجینیا یونی ورسٹی میں تقابلی مذہب کے پروفیسر ہیں۔ تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ تک ان سے مفید ملاقات رہی۔ وہ اس سے پہلے میری کئی چیزیں پڑھتے رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مجھے تعجب انگیز خوشی (Pleasant surprise) کا احساس اس پر ہوتا ہے کہ آپ اتنی زیادہ ہوش مندی (sanity) کی بات کرتے ہیں اور پھر بھی آپ اتنے زیادہ پڑھے جاتے ہیں۔ یہ آپ کو زمانہ کے لحاظ سے ایک استثنائی نعمت حاصل ہے۔ آج ہی کے ٹائم آفت انڈیا (۷ دسمبر) میں میرا ایک مضمون چھپا تھا جس کا عنوان تھا : Time ripe to end Ayodhya dispute. انھوں نے اس مضمون کو دیکھا اور میرے نقطہ نظر سے اتفاق کیا۔ اس پر اور دوسرے موضوعات پر ان سے دیر تک گفتگو ہوتی رہی۔ ان کا خیال ہے کہ موجودہ زمانہ میں سچا مذہب ہی آدمی وہ ہے جو سائنس داں ہو، اور سچا سائنس داں وہ ہے جو مذہب ہی ہو۔ انھوں نے کہا :

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page