بمبئی کا سفر
Urdu book, p. 335
By Maulana Wahiduddin Khan
میرے ایک سوال کے جواب میں انھوں نے مزید کہا کہ جدید سائنس کی اپنی محدودیتیں ہیں۔ کیوں کہ وہ سائنٹفک طریقہ پر زندگی کے اندرونی حقائق کا پتہ نہیں لگا سکتی : ڈاکٹر سیشاگری راؤ ورجینیا یونیورسٹی میں پروفیسر تھے۔ وہاں ان کو ۸۰ ہزار ڈالر سالانہ مل رہے تھے۔ مگر انسائیکلوپیڈیا آف ہندوازم کے لیے انھوں نے یونیورسٹی کی سروس چھوڑ دی۔ اب وہ رضا کارانہ طور پر انسائیکلوپیڈیا کی تکمیل میں لگے ہوئے ہیں۔ وہ اس کے چیف ایڈیٹر ہیں۔ یہ بات مجھے بعد کو سوامی چیدانند نے بتائی۔ ۷ دسمبر کی سہ پہر کو میں دہلی پہنچا۔ یہاں آج ہی خود کشی کا ایک واقعہ ہوا تھا جس کو ایک صاحب نے مجھے بتایا (اس واقعہ کی تفصیل ٹائمز آف انڈیا ۸ دسمبر ۱۹۹۳ میں دیکھی جا سکتی ہے) ڈاکٹر دھیریندر کانت داس (Dhirendra Kanta Das) انڈین آرمی میں میجر جنرل کی پوزیشن پر تھے۔ وہ میڈیکل شعبہ (Armed Forces Medical Services) کے ڈائرکٹریٹ میں ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل تھے۔ سنیریٹی کے اعتبار سے ان کو اب پروموشن ملنا چاہیے تھا۔ اس طرح وہ ڈائرکٹر کے عہدہ پر پہنچ جاتے مگر ان کے نیچے کے ایک افسر ایس جی نیوگی نے حکومت سے پروموشن آرڈر حاصل کر لیا۔ وہ ان کو سپر سیڈ کر کے ڈائرکٹر کے عہدہ پر پہنچ گیا۔ ڈاکٹر داس اس ذلت کو برداشت نہ کر سکے۔ وہ اپنے دھولا کنواں کے مکان میں باتھ روم کے اندر ایک رسی کے پھندے سے لٹک گئے اور اس طرح خود کشی کر لی۔ اس وقت ان کی عمر ۷۵ سال تھی۔ ۳۱ جنوری ۱۹۹۴ کو وہ ریٹائر ہونے والے تھے۔ ڈاکٹر داس نہایت صحت مند تھے۔ ان کے دو بچوں میں سے ایک لڑکا ایم ڈی کر چکا تھا۔ وہ ریٹائر ہو کر دہلی میں ایک اچھی زندگی گزار سکتے تھے۔ مادی اعتبار سے ان کے یہاں کسی چیز کی کمی نہیں تھی۔ اس کے باوجود انھوں نے کیوں خود کشی کر لی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ انھوں نے پروموشن کے معاملہ کو اپنے لیے وقار کا مسئلہ بنا لیا۔ ایک خیالی بات ان کے لیے تمام حقیقی باتوں سے زیادہ اہم ہوگئی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader