Urdu book · اسفارِ ہند

بمبئی کا سفر

Urdu book, p. 336

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ اتنا زیادہ نروس ہوئے کہ انھوں نے خود اپنے آپ کو مار ڈالا۔ میں نے اپنے ساتھی سے کہا کہ کسی چیز کو وقار کا مسئلہ بنانا سراسر ہلاکت ہے، فرد کے لیے بھی اور قوم کے لیے بھی۔ آدمی پر لازم ہے کہ جو چیز جس درجہ کی ہے اس کو اسی درجہ میں رکھے، کسی چیز کو اس کے واقعی درجہ سے بڑھانے ہی کا یہ مہلک نتیجہ ہوتا ہے کہ وہ چیز وقار کا سوال بن جاتی ہے۔ اگر چیزوں کو ان کے واقعی درجہ میں رکھا جائے تو کبھی وہ وقار کا سوال نہ بنے جو افراد اور قوموں کو خود کشی کے مرحلہ تک پہنچا دیتا ہے۔ رشی کیش میں چند دن گزار کر میں دہلی واپس پہنچا تو خیال آیا کہ رشی کیش ہندوستان کا روحانی مرکز ہے اور دہلی ہندوستان کا سیاسی مرکز۔ رشی کیش میں ہر طرف روحانی سکون کا ماحول تھا، دہلی میں ہر طرف سیاسی اضطراب کا ماحول۔ ملک میں یہ دونوں دھارے اسی طرح الگ بہہ رہے ہیں جس طرح پریاگ (الہ آباد) میں گنگا اور جمنا کا پانی الگ الگ بہتا دکھائی دیتا ہے۔ آج ملک کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ یہ دونوں انسانی دھارے ایک دوسرے میں مل جائیں، روحانیت میں سیاسی آفاقیت پیدا کی جائے اور سیاست کو روحانی غسل دے دیا جائے۔ دو دھاروں کے اسی تالاب میں ہندوستان کی ترقی کا راز چھپا ہوا ہے۔ روزگاروں کے اس ناپ میں ساسوں کا بھی اپنا ایک مقام ہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page