بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 337
By Maulana Wahiduddin Khan
بنگلور کا سفر لوک سوراج آندولن کی طرف سے بنگلور میں ۳۰ جنوری ۱۹۹۴ء کو ایک سیمینار ہوا۔ اس کا موضوع تھا ــــــ ہندوستانی قومیت کی تشکیل کس طرح ہوتی ہے : What constitutes Indian nationalism. اس کے منتظمین کی دعوت پر بنگلور کا سفر ہوا۔ یہاں اس کی مختصر رو داد درج کی جاتی ہے۔ ۲۹ جنوری کی شام کو مجھے دہلی سے روانہ ہونا تھا۔ انڈین ایئر لائنز کی فلائٹ اس دن دو گھنٹہ لیٹ تھی۔ تاہم ٹیلی فون نے ایئر پورٹ پر دو گھنٹہ تک بیٹھنے کی زحمت سے بچالیا۔ ایئر پورٹ کو ٹیلی فون کر کے پیشگی طور پر معلوم کر لیا گیا تھا۔ چنانچہ اس کے مطابق کسی قدر تاخیر کے ساتھ گھر سے روانہ ہوا۔ میں نے ایک صاحب سے کہا کہ یہ کمیونی کیشن بھی خدا کی کتنی بڑی نعمت ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس کا خدا سے کیا تعلق، یہ تو جدید ٹکنالوجی کی دین ہے۔ میں نے کہا کہ جدید ٹکنالوجی نیچر کے امکانات کا استعمال ہے، اور نیچر کے ان امکانات کو پیدا کرنے والا ہی ہے جس کو ہم خدا کہتے ہیں۔ دہلی ایئر پورٹ کی انتظار گاہ میں بیٹھا ہوا تھا۔ اتنے میں زیادہ عمر کے ایک ہندو آئے۔ اور میرے قریب کی خالی سیٹ پر بیٹھ گئے۔ انھوں نے کہا کہ مولانا صاحب، اگر آپ اجازت دیں تو میں ایک بات آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں۔ میں نے کہا کہ پوچھیے۔ انھوں نے کہا کہ میں اچھی اردو جانتا ہوں۔ میں نے اسلام پر کئی کتابیں پڑھی ہیں۔ مگر ایک بات ایسی ہے جس کو میں نہیں سمجھ سکا۔ مسلمان بعض چیزوں پر بہت زیادہ بھڑکتے ہیں۔ اور بعض دوسری چیزیں ہوتی رہتی ہیں مگر ان پر وہ بالکل نہیں بھڑکتے۔ جیسے کہ شاہ بانو بیگم کا معاملہ ہے۔ وہ اس بات پر بہت زیادہ بھڑک اٹھے کہ کسی مطلقہ عورت کو اس کا سابق شوہر ماہانہ گزارہ دے۔ مگر اسی دیش میں مسلمان جو کھیلتا ہے۔ شراب پیتا ہے۔ مار پیٹ کرتا ہے۔ بینک سے سود پر قرض لیتا ہے۔ چوری کرتا ہے۔ اس طرح کی بہت سی شریعت کے خلاف چیزیں روزانہ مسلم سماج میں ہوتی ہیں۔ مگر ان کے خلاف مسلمان کبھی دھوم نہیں مچاتے۔ لیکن شاہ بانو بیگم نے اپنے پچھلے شوہر سے ۱۸۰ روپیہ ماہوار لیا تو سارے مسلمان اس پر بھڑک اٹھے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader