بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 338
By Maulana Wahiduddin Khan
یہی بابری مسجد کے معاملہ میں ہوا۔ ۱۹۳۱ میں ہزاروں مسجدوں کی بے حرمتی ہوئی۔ وہ ڈھائی گئی، مگر مسلمان چپ رہے۔ مگر بابری مسجد پر ایک ہنگامہ کھڑا کر دیا۔ اب میں جاننا چاہتا ہوں کہ کیا قرآن میں کہیں لکھا ہے کہ ساری شریعت معطل ہو جائے تو کوئی حرج نہیں، مگر مطلقہ عورت اپنے پچھلے شوہر سے گزارہ نہ لینے پائے۔ چاہے دوسری ہزاروں مسجدوں کے ساتھ کچھ بھی، مگر بابری مسجد کے خلاف کچھ ہو تو اس کو برداشت نہ کرنا۔ میں نے کہا کہ قرآن یا حدیث میں ایسی کوئی بات لکھی ہوئی نہیں ہے۔ البتہ موجودہ زمانہ کے نام نہاد مسلم لیڈر جس اسلام کی نمائندگی کرتے ہیں وہ یہی ہے۔ یہ مسلم لیڈروں کا اپنا گھرانہ ہوا اسلام ہے نہ کہ خدا کا اتارا ہوا اسلام۔ شام کو نو بجے جہاز (403 IC) بنگلور کے لئے روانہ ہوا۔ راستہ میں ہندی اخبار ساندھیر ٹائمز (۲۹ جنوری) دیکھا۔ اس کے صفحہ اول کی سرخی تھی: دتی کے ڈیلی کی تلاش۔ اندر کی ایک سرخی ان الفاظ میں تھی: وکیلوں سے بہتر برتاؤ کرو۔ ایک اور سرخی اس طرح تھی: دنیا میں تین طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ ہندی اخبار کی اس زبان کو پڑھتے ہوئے مجھے خیال آیا کہ ۱۹۷۴ کے بعد جب وقتی جوش کے تحت شدہ ہندی کا دور آیا تو بہت سے مسلمان یہ کہنے لگے کہ انڈیا سے اب اردو ختم ہوگئی۔ چالیس سالہ تجربہ کے بعد اب انہیں کہنا چاہیئے کہ اسکرپٹ کے اعتبار سے تو ضرور یہاں فرق آیا ہے مگر جہاں تک اصل اردو زبان کا تعلق ہے وہ اب بھی پوری طرح باقی ہے۔ اس میں یہ بھی سبق ہے کہ تاریخی حقیقتوں کو پرجوش بیانات کے ذریعہ بدلنا ممکن نہیں۔ پائیو نیر (۲۹ جنوری ۱۹۹۲ کے ضمیمہ میں ایک رپورٹ ہوائی سفروں کے بارہ میں تھی۔ اس کا عنوان تھا فضا میں مسکراہٹ (A smile in the sky) اس میں دکھایا گیا تھا کہ پچھلے دو سال میں جب کہ انڈیا میں پرائیویٹ ہوائی کمپنیاں چلائی گئی ہیں، ہوائی سفر میں ایک انقلاب آگیا ہے۔ انڈین ایئر لائنز کے مقابلہ میں پرائیویٹ ایئر کمپنیاں زیادہ بہتر سروس دے رہی ہیں۔ اس سلسلہ میں مضمون نگار سومیت پال نے مختلف ہوائی مسافروں سے ان کی رائے پوچھی۔ ایک مسافر (Agnihotri) نے کہا کہ کچھ بھی نہیں بدلا ہے (nothing has changed)۔ ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader