بنگلور کا سفر
Urdu book, p. 339
By Maulana Wahiduddin Khan
اور مسافر (Kushlani) نے بتایا کہ ڈرامائی تبدیلی ہوئی ہے: There's a dramatic change in attitude. رائےلوں کا یہ فرق ہر معاملے میں اور ہمیشہ پایا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی چیز کو دیکھنے کے کئی زاویے ہوتے ہیں۔ ایک ہی چیز یا شخصیت ایک زاویہ نگاہ سے دیکھنے میں کچھ نظر آتی ہے اور دوسرے زاویہ نگاہ سے دیکھنے میں وہ کچھ اور نظر آنے لگتی ہے۔ تقریباً ڈھائی گھنٹہ کی مسلسل پرواز کے بعد رات کو ساڑھے گیارہ بجے جہاز بنگلور میں اترا۔ جناب سید تمیز الدین صاحب کے ہمراہ ان کی رہائش گاہ (ملر روڈ) آیا جہاں مجھے کو قیام کرنا تھا۔ تمیز الدین صاحب ایک صنعت کار ہیں۔ وہ صنعت کے دائرہ کی مختلف باتیں بتاتے رہے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ کئی بار سنگا پور گئے ہیں۔ سنگاپور ایک بہت چھوٹا ملک ہے۔ اس کے پاس وسائل کی قسم کی کوئی چیز نہیں۔ یہاں تک کہ پانی بھی اس کو پڑوسی ملک ملیشیا سے حاصل کرنا پڑتا ہے۔ لیکن سنگا پور آج اتنا ترقی یافتہ ملک بن چکا ہے کہ وہ ہندوستان کو دینے کی پوزیشن میں ہو گیا ہے۔ چنانچہ بنگلور میں سنگا پور کے تعاون سے انتہائی جدید قسم کا ایک ٹیکیکل انفارمیشن سنٹر قائم ہوا ہے جس کا افتتاح ۲۶ جنوری کو کیا گیا۔ انھوں نے بتایا کہ سنگاپور میں جرائم برائے نام ہیں۔ صفائی اور ڈسپلن کمال درجہ میں پایا جاتا ہے۔ پولیس اور انتظامیہ میں کرپشن کا وجود نہیں۔ ہر فرقہ کو اپنے مذہب اور کلچر کی مکمل آزادی ہے۔ سیمینار کے منتظمین نے میرے قیام کا انتظام یہاں کے ایک ہوٹل آشرے انٹرنیشنل میں کیا تھا۔ مگر میں وہاں نہیں ٹھہرا۔ ایئر پورٹ سے سیدھا جناب (Ashray International) تمیز الدین صاحب کی رہائش گاہ پر گیا۔ شروع سے آخر تک وہیں میرا قیام رہا۔ ۳۰ جنوری کی صبح کو چڑیوں کی آواز کے ساتھ نیند کھلی۔ فجر کی نماز یہاں کی قدیم مسجد قادریہ (ملر روڈ) میں پڑھی۔ نہایت کشادہ اور خوبصورت مسجد ہے۔ ایک بہت بڑا احاطہ ہے جس میں مسجد اور عید گاہ واقع ہیں۔ شہر کے وسط میں مسجد اور عید گاہ کے لئے اتنا بڑا علاقہ آج حاصل کرنا ہو تو وہ تقریباً نا ممکن ہوگا۔ اس سے حال کے لئے ماضی کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔ امام صاحب نے پہلی رکعت میں اِنّ للمتقین مفازاً (النبأ ۳۱) پڑھی۔ میں نے سوچا کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader