Urdu book · اسفارِ ہند

بنگلور کا سفر

Urdu book, p. 340

By Maulana Wahiduddin Khan

مسجد صرف ایک رسمی عبادت کا مقام نہیں۔ وہ ایک انقلابی سبق کا مرکز ہے۔ جو لوگ اپنا دن اس طرح شروع کریں کہ انہوں نے صبح کی نماز سے یہ سبق لیا ہو کہ اس دنیا میں کامیابی ان لوگوں کے لئے ہے جن میں تقویٰ کی صفت ہو۔ ان کو آگے بڑھنے سے کوئی بھی چیز اس دنیا میں رو کنے والی نہیں۔ تقویٰ زندگی کی ایک روش ہے۔ ایک صحابی کی تشریح کے مطابق، تقویٰ کا مطلب یہ ہے کہ آدمی کانٹوں اور جھاڑیوں سے بچتا ہوا زندگی کا راستہ طے کرے۔ اس کو دوسرے لفظوں میں احتیاط اور پر ہیز کا اصول بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہی اصول دنیا میں بھی کامیابی کا واحد راز ہے اور آخرت میں بھی کامیابی کا واحد راز۔ صبح کو انگریزی اور اردو کے کئی اخبار آگئے جن کا مطالعہ کرتا رہا۔ روز نامہ سالار (۳۰ جنوری) کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ سابق وزیر داخلہ بوٹا سنگھ نے سکھ مذہب میں واپسی کے لئے ۵۶ دن کی سزا قبول کرلی ہے جو انہیں سکھوں کے سب سے بڑے مذہبی ادارہ اکال تخت نے ۲۶ جنوری ۱۹۹۳ کو سنائی۔ بوٹا سنگھ آٹھ ہفتوں تک سکھوں کے بڑے بڑے گورو دواروں میں جھاڑو دیں گے، برتن دھوئیں گے اور یاتریوں کے جوتے صاف کریں گے۔ ان کے گلے میں ایک تختی لٹکی رہے گی جس پر تنکھائیا (گناہ گار) لکھا ہوا ہوگا۔ بوٹا سنگھ کو یہ سزا اس لئے دی گئی کہ انہوں نے وزیر داخلہ کی حیثیت سے ۱۹۸۴ میں سورن مندر (امرتسر) میں آپریشن بلو اسٹار کرایا۔ اس کے بعد انہیں سکھ برادری سے نکال دیا گیا تھا۔ مسٹر بوٹا سنگھ نے یہ فیصلہ کسی مادی یا فوجی دباؤ کے بغیر قبول کیا ہے۔ اسی کا نام اخلاقی ڈسپلن ہے۔ اخلاقی ڈسپلن کسی فرد یا قوم کے لئے، بلاشبہ سب سے بڑی طاقت ہے۔ بنگلور کو ۱۸۳۰ میں اہمیت حاصل ہوئی جب کہ وہ قدیم میسور اسٹیٹ کا انتظامی ہیڈ کوارٹر بنا۔ اب وہ کرناٹک کی ریاستی راجدھانی ہے۔ بنگلور چننا سب سے بڑا ہندوستانی شہر سمجھا جاتا ہے۔ وہ سطح سمندر سے ۹۵۰ میٹر بلند ہے اور معتدل آب و ہوا کے لئے مشہور ہے۔ بنگلور میں تین بڑے تعلیمی ادارے ہیں: بنگلور یونیورسٹی، یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز، انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنسز۔ اس کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں چھوٹے بڑے اسکول و قائم ہیں۔ بنگلور میں اعلیٰ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page